یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد ویٹو

قرارداد کو ایک سو تیس ممالک کی حمایت حاصل تھی
،تصویر کا کیپشنقرارداد کو ایک سو تیس ممالک کی حمایت حاصل تھی
وقت اشاعت

امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرارداد کو ’ویٹو‘ کر دیا ہے جس میں فلسطینی علاقے میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی تعمیر کو خطے میں قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا تھا۔

امریکہ کے سوا سلامتی کونسل کے دیگر چودہ ارکان نے اس قرارداد کی حمایت کی جس کی توثیق فلسطینی تحریکِ آزادی نے بھی کی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اوباما انتظامیہ نے اقوامِ متحدہ میں ویٹو کا حق استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ پر اسرائیل اور خود اس کی کانگریس میں موجود اسرائیل نواز لابی کا شدید دباؤ تھا۔

اس ویٹو کے بعد فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات کے عمل کا ’دوبارہ جائزہ لیا جائے گا‘۔امریکہ نے فلسطینی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اس قرارداد کو واپس لے لیں اور اس کے متبادل کو قبول کریں لیکن فلسطینی انتظامیہ نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

امریکہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا مخالف ہے
،تصویر کا کیپشنامریکہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا مخالف ہے

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں عرب عوام کو ناراض کر سکتا ہے جب مشرقِ وسطٰی کے متعدد ممالک میں پہلے ہی عوام مظاہروں میں مصروف ہیں۔

ایک جانب جہاں امریکہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا مخالف ہے وہیں اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاملے کو اقوامِ متحدہ میں لے جانے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی امن معاہدے کے دوبارہ آغاز کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر سوزین رائس کا کہنا ہے کہ ’بدقسمتی سے یہ قرارداد دونوں طرف کے موقف میں سختی کی وجہ بن سکتی ہے‘۔

اس قرارداد میں جسے ایک سو تیس ممالک کی حمایت حاصل تھی،کہا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیرقانونی ہے اور یہ پائیدار اور جامع امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

امریکی ویٹو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رام اللہ میں موجود پی ایل او کے سیکرٹری جنرل یاسر عبدالربو نے کہا ہے کہ امریکی فیصلہ ’مایوس کن‘ ہے اور اس سے امریکی انتظامیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔