بحرین میں امید مگر لیبیا میں صرف خوف

قذافی حکومت پر بحرین کی حکومت جیسا دباؤ ڈالنا مشکل ہوگا
،تصویر کا کیپشنقذافی حکومت پر بحرین کی حکومت جیسا دباؤ ڈالنا مشکل ہوگا
    • مصنف, بریجیٹ کینڈل
    • عہدہ, سفارتی نامہ نگار، بی بی سی
  • وقت اشاعت

مصر اور تیونس میں حکمرانوں کی جانب سے عوامی احتجاج کو دبائے جانے کی کوشش کے بعد چند دن قبل تک لیبیا اور بحرین میں بھی حکمرانوں کی جانب سے اسی قسم کا ردعمل دیکھنے کو مل رہا تھا تاہم اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ بحرین اور لیبیا کے صورتحال ایک جیسی نہیں رہی ہے۔

بحرین میں فوج کو واپس بلوا لیا گیا ہے، مظاہرین کو لگنے لگا ہے کہ ان کی بات سنی گئی ہے اور شاہی خاندان نے بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

تاہم اس ساری صورتحال کے پس منظر میں بحرین کے نسبتاً آزاد خیال عرب ملک ہونے سے زیادہ بیرونی دباؤ کارفرما نظر آتا ہے۔ فوج کی واپسی سے قبل امریکی صدر اور برطانوی وزیرِ خارجہ نے بحرین کے بادشاہ سے فون پر بات کی تھی اور انہیں اس معاملے کا ایک پرامن حل تلاش کرنے کو کہا تھا۔

بحرین کے برعکس لیبیا میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور وہاں سے معلومات کی فراہمی پر عائد پابندی کی وجہ سے دنیا کو اس خونی صورتحال کا صحیح اندازہ ہونا شاید اب شروع ہوا ہے۔

چار عشروں تک کرنل قذافی کی سخت حکومت کے سائے میں جینے والے افراد ملک کے مختلف شہروں میں جس طرح سڑکوں پر نکلے ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی۔ انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ویڈیوز سے ان مظاہرین کے عزم اور لیبیائی حکومت کے کریک ڈاؤن دونوں کا پتہ چلتا ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے لیبیا کی صورتحال کو ’خوفناک‘ اور ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو کرنل قذافی کی حکومت کے اقدامات کی مذمت میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ قذافی حکومت پر بحرین کی حکومت جیسا دباؤ ڈالنا مشکل ہوگا۔ کرنل قذافی کو ایک ایسی حکومت کرنے کا وسیع تجربہ ہے جہاں تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ لیبیا کے مظاہرین کے مطالبات میں سمجھوتے کی گنجائش بہت ہی کم ہے۔

جہاں بحرین میں مظاہروں کا بنیادی مقصد شاہی خاندان کو حکومت سے بےدخل کرنے کی بجائے وزیراعظم سے چھٹکارا پانا اور مزید اصلاحات لانا تھا وہیں لیبیا کے مظاہرین کا ایک ہی مقصد ہے، کرنل قذافی کی اقتدار سے علیحدگی۔

اس لیے بعید نہیں کہ کرنل قدافی اپنی جان اور حکومت بچانے کے لیے مزید تشدد سے کام لیں اور کوئی شک نہیں کہ وہ سخت ترین اقدامات کو ہی اپنی واحد آپشن مانیں گے۔