لیبیا: قبائلی سردار اتنا اثر نہیں رکھتے جتنا سمجھا جاتا ہے

تبروک کے قبائل
،تصویر کا کیپشنلیبیا میں قبائلی سرداروں کا اثر و رسوخ اتنا نہیں ہے جتنا کہ کہا جا رہا ہے
    • مصنف, محمد حسین
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت

بیس فروری کو ٹی وی پر اپنے خطاب کے دوران لیبیا کے صدر معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے تو مختلف قبیلے سڑکوں پر ایک دوسرے کو مارنے لگیں گے اور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

لیکن اس میں سے کتنا سچ ہے اور کتنا ڈرانے کے لیے کہا گیا ہے؟ لیبیائی معاشرے میں قبیلوں کا کیا کردار ہے اور یہ کتنے بااثر ہیں؟

صدر قذافی کے 42 سالہ دورِ اقتدار میں لیبیا نے معاشرتی اور معاشی ترقی کی ہے اور اس کی وجہ اس کی تیل سے حاصل کی جانے والی بے پناہ دولت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قبیلے اور گروہ بھی اس کے بدلتے ہوئے معاشرتی نقشے کا حصہ رہے ہیں۔

لیبیا میں عورتیں آزاد ہیں کہ وہ جو چاہے پہنیں اور جہاں چاہے نوکری کریں۔ اس میں صرف انہیں ان کے خاندان کی مرضی کا خیال رکھنا ضروری ہے نہ کہ ریاست لی۔ عالمی بینک کے اعدادو شمار کے مطابق عمر کی اوسط شرح ستر کے قریب ہے اور فی کس آمدنی تقریباً بارہ ہزار ڈالر ہے۔

کرنل قذافی
،تصویر کا کیپشنخانہ جنگی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب قذافی انتظامیہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی پرواہ ہی نہ کرے

ناخواندگی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور ہر ایک کے پاس اپنا گھر ہے۔ کرنل قذافی کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ایسا نہیں تھا۔

تاہم قبائلیت، جس کا سامنا بادشاہت کو بھی تھا اور کرنل قذافی اور ان کے رفقاء نے 1969 میں اقتدار سنبھالتے ہی جس کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک حالیہ لیبیائی معاشرے کی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

ابھی تک بہت سے لیبیائی باشندے اپنی شناخت اپنے قبیلے کے حوالے سے کرواتے ہیں۔ تاہم تعلیم اور شہروں کی طرف آنے جانے سے پیدا ہونے والے اثر کی وجہ سے قبائلیت پہلے سے کم ہوئی ہے۔

کرنل قذافی نے اقتدار سنبھالتے ہی قبائلیت کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور ان کے اقتدار کے پہلے دس سالوں میں سرکاری طور پر اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اس دوران قذافی کو بہت سی آبادی اور فوج کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن جیسے ہی ان کی مقبولیت کم ہونے لگی اور وہ فری یونینسٹ آفیسرز کورپس میں اپنے رفقاء کا ساتھ چھوڑنے لگے تو انہوں نے اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لیے قبائلیت اور قبیلوں کی دشمنیوں کا ہی سہارا لیا۔

اس کا سب سے زیادہ نمایاں رنگ مسلح افواج میں نظر آتا ہے جہاں تمام اہم قبائل کی نمائندگی ہے۔ ترجیحی بنیادوں پر مختلف قبائل کی سرپرستی کر کے ان کے درمیان دشمنی کو ہوا دینے سے نہ صرف قذافی نے فوج پر اپنی گرفت مضبوط رکھی بلکہ اس سے عوام اور فوج کی ان پر توجہ بھی بٹی رہی۔

آج کل مسلح افواج میں قبائلی تناؤ بالکل واضح ہے۔ صدر قذافی کا قبیلہ قذافہ لاکربی کے بمبار عبدالباسط علی المغراہی کے قبیلے سے برسرِپیکار ہے۔ اس کے وارفالا قبیلے سے اچھے تعلقات ہیں جو کہ الزنتان قبیلے کے قریب ہے۔ طرابلس سے 75 میل دور الزنتان مغربی لیبیا میں پہلے شہروں میں سے ایک تھا جس نے صدر قذافی کے خلاف حالیہ بغاوت شروع کی تھی۔

تاہم کل آبادی کے تناسب سے قبائل اور قبائلی سرداروں کی اہمیت کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی درست نہیں ہو گا۔

یہ ٹھیک ہے کہ قبائل سے تعلق سے ملازمت کے حصول اور دوسرے سرکاری کاموں میں مدد مل جاتی ہے، لیکن سیاسی طاقت کے حساب سے قبیلوں کی اہمیت کم ہے۔

لیبیا میں مظاہرے
،تصویر کا کیپشنلیبیائی عوام میں موجودہ حکمرانوں کے خلاف بہت غصہ پایہ جاتا ہے

قبائلی سرداروں کا اثر بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی درست نہیں ہو گا۔ اگر دیکھا جائے تو لوگ قبائلی سرداروں کی صرف وہی بات مانتے ہیں جس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔ خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے میں بھی قبائلی سردار کوئی زیادہ اثر رسوخ نہیں رکھتے حالانکہ اس میں ان کا کردار بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

سو پھر سیف الاسلام کے قبائل کے درمیان جنگ کے خدشے کے بیان کو کیا اہمیت دینی چاہیئے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ خانہ جنگی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کوئی اہمیت نہ دے اور آخری وقت تک لڑنے کا سوچ لے جیسا کہ وہ گزشتہ کچھ دنوں سے کر ہی رہی ہے۔ اس صورت میں قبائلی وابستگیوں سے قطع نظر جنگ صرف حکومت اور اس کے حمایتیوں اور حکومت مخالف لوگوں کے درمیان رہ جائے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ تیل کی ریفائنریوں میں کام کرنے والے، مسلح افواج کے ملازمین اور ریاست کے دوسرے اداروں میں کام کرنے والے اپنے فیصلے خود کریں گے ناکہ صرف وہ کریں گے جو کہ ان کے قبائلی سردار انہیں کہیں گے۔

تاہم جہاں تک حکومت اور اس کے حامیوں کے ’مورال‘ کا تعلق ہے تو ان کے لیے قبائلی سرداروں کا اعلان کافی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس سے عوام میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت کے ہاتھ سے طاقت نکل رہی ہے جس سے قذافی انتظامیہ کا خوف اور کم ہوتا جائے گا۔ اس خوف کی وجہ سے ہی تو معمر قذافی کے سامنے آج تک کوئی بڑی اپوزیشن نہیں آئی تھی۔