عراق: بم دھماکے کے بعد آئل ریفائنری بند

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبیجی آئل ریفائنری کا شمار عراق کی تین اہم ترین آئل ریفائنریز میں ہوتا ہے
وقت اشاعت

عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ’بیجی‘ کو سینچر کی صبع ہونے والے بم دھماکے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔

اس بم دھماکے میں تیل صاف کرنے والے کارخانے ’بیجی‘ کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے تھے۔

حملہ آوروں نے بغداد کے شمالی صوبے صلاح دین میں واقع اس آئل ریفائنری میں مقامی وقت کے مطابق صبع چار بج کر تیس منٹ پر داخل ہو کر بم نصب کیے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نےعراقی صوبے صلاح دین کے گورنر احمد الجبوری کے حوالے سے بتایا کہ آئل ریفائنری کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

گورنر کے مطابق آئل ریفائنری کا بند ہونا ملک کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

حکام کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں اُسے شدید نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق ’بیجی‘ نامی تیل صاف کرنے والے کارخانے کو کبھی القاعدہ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا جو شدت پسندوں کو پیسے فراہم کرتی تھی۔

پولیس کے مطابق آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ پر پانچ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا۔

ایک نامعلوم افسر نے بتایا کہ آئل ریفائنری سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانے میں کافی وقت لگے گا کیونکہ یہ بہت بڑا نقصان ہے۔

’بیجی‘ آئل ریفائنری کا شمار عراق کی تین اہم ترین آئل ریفائنریز میں ہوتا ہے۔اِس ریفائنری کے ذریعے روزانہ ڈیڑھ لاکھ بیرل تیل صاف کیا جاتا ہے۔