اسکندریہ:ریاستی فورس ہیڈکوارٹر پر حملہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر کے شہر سکندریہ میں مظاہرین کے ریاستی سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر ہلہ بول دینے کے ایک واقعے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
مظاہرین کے خیال میں ہیڈ کواٹر میں موجود افسران اہم دستاویزات کو ضائع کر رہے تھے۔
ہیڈ کواٹر کے اندر موجود پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
یہ مظاہرے اس وقت ختم ہوئے جب فوج نے ریاستی سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈ کواٹر کا کنٹرول سنبھال لیا۔
<link type="page"><caption> جمہوری اصلاحات یا استعفیٰ: مصری وزیراعظم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/03/110304_egypt_pm_promise-ra.shtml" platform="highweb"/></link>
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہیڈ کواٹر میں موجود افسران دستاویزات کو ضائع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورس کو ختم کیا جائے۔
مصر میں ریاستی سکیورٹی فورس پر انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کا الزام لگتا رہا ہے۔ ان میں حراست کے دوران تشدد کے واقعات بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
مظاہرین جنھوں نے حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور کیا تھا کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں کئی عشروں سے نافذ ایمرجنسی کو ختم کیا جائے۔
مصر میں گیارہ فروری کو حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد فوج کی سپریم کونسل نے جو ملکی معاملات کو چلا رہی ہے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ چھ ماہ تک ملکی معاملات چلائیں جب کہ پارلیمانی اور صدارتی انتخابات منعقد نہیں ہو جاتے ہیں۔
جمعہ کو اس نے اعلان کیا تھا کہ ملک کے آئین میں اصلاحات کے حوالے سے ریفرینڈم انیس مارچ کو ہو گا۔
جمعہ کو مظاہرین نے سابق وزیراعظم شفیق کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا تاہم ان کے مستعفی ہونے اور شرف عصام کو نیا وزیراعظم مقرر کرنے پر جشن منایا گیا۔
مصر کے نئے وزیراعظم شرف عصام نے قاہرہ کے تحریر سکوائر میں دس ہزار کے قریب مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’میں دعا کرتا ہوں کہ مصر ایک آزاد ملک ہو اور اس کی سکیورٹی نظام شہریوں کے لیے کام کریں۔‘
وزیراعظم کا یہ خطاب اس وقت سامنے آیا جب مظاہرین نے ریاستی سکیورٹی فورس کو ختم کرنے کے لیے احتجاج کیا اورنعرے بازی کی۔



















