بھارتی ملاحوں کی رہائی کی ڈیڈ لائن ختم

صومالی قزاقوں نے جن اناسی بھارتی ملاحوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ان میں سے آٹھ کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے کی ڈیڈ لائن بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔
ان ملاحوں کو گزشتہ برس اگست میں اغوا کیا گیا تھا اور ان کی رہائی کے لیے قزاق چالیس لاکھ امریکی ڈالر مانگ رہے ہیں۔
اس موقع پر حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بدھ کو لوک سبھا میں ملاحوں کی رہائی کے لیے حکومت کی جانب سے بقول اس کے ٹھوس کارروائی نہ کیے جانے پر اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
دلی میں نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق حزبِ اختلاف میں لوک سبھا کی لیڈر سشما سواراج نے کہا کہ ’اگر ایک امریکی شہری اغوا ہوجاتا ہے تو امریکہ اس کی رہائی کے لیے زمین آسمان ایک کردیا جاتا ہے۔لیکن ہندوستانی حکومت سنجیدہ نہیں۔‘
جواب میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ملاحوں کی رہائی ’ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم جو کچھ کرسکتے ہیں کر رہے ہیں۔ہم جہاز کے مالکان سے رابطےمیں ہیں اور ان لوگوں کی رہائی کے لیے انہیں کے ذریعے قزاقوں سے بات چیت کر رہے ہیں جیسا کہ عام طور پر کیا جاتا ہے۔‘
تاہم شو سینا اور اکالی دل کے ارکان نے وزیرِ خارجہ کے بیان کو بے بسی سے تعبیر کرتے ہوئے لوک سبھا سے واک آؤٹ کردیا۔
ایس ایم کرشنا نے کہا کہ صومالیہ میں عبوری حکومت قائم ہے۔ ’ہم نےاس حکومت کے صدر سے بات چیت کی ہے اور انہوں نے ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے۔‘
اس سے پہلے اغواکاروں نے کہا تھا کہ تاوان کی ادائیگی کے لیے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صومالی قزاقوں نے دو اگست دو ہزار دس کو ایک مصری مال بردار جہاز کو اغوا کیا تھا۔ یرغمال بنائے جانے والوں میں چار پاکستانی، چار سری لنکن اور گیارہ مصری شہری بھی شامل تھے۔
ہندوستان کے محکمہ جہاز رانی کے مطابق مختلف واقعات میں دو سو پندرہ ہندوستانی ملاحوں کو یرغمال بنایا گیا تھا جن میں سے ایک سو چھتیس کو رہا کر دیا گیا ہے۔ فی الحال اناسی ملاح قزاقوں کی قید میں ہیں۔
لیکن ایس ایم کرشنا نے کہا کہ قزاقی ایک انتہائی پیچیدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور صومالی قزاقوں نے دنیا بھر سے سینکڑوں جہازوں اور ان کے عملے کے ہزاروں ار ان کو یرغمال بنایا ہے۔



















