لیبیا: بی بی سی کی ٹیم کے ساتھ مار پیٹ

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی فورسز نے بی بی سی نیوز کی ایک ٹیم کو گرفتار کر کے ان کے ساتھ مار پیٹ کی ہے۔
یہ ٹیم مغربی شہر زاویہ جانے کی کوشش کر رہی تھی۔
لیبیا کی فوج اور خفیہ پولیس نے بی بی سی کے عملے کے تین ارکان کے ساتھ مار پیٹ کی ان کے چہروں کو غلاف پہنائے گئے اور انہیں قتل کرنے کا ڈرامہ کیا گیا۔
ان لوگوں کو پیر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اکیس گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا تاہم اب یہ ٹیم لیبیا سے روانہ ہو گئی ہے۔
قذافی کی فورسز اس وقت زاویہ کو باغیوں کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے لیے شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔
دارلحکومت طرابلس سے صرف تیس میل دور اس شہر کو فوج اور ٹینکوں نے گزشتہ چار روز سے گھیر رکھا ہے۔
بی بی سی نے ایک بیان جاری کر کے اپنے صحافیوں کے ساتھ ہونے والی اس ’زیادتی‘ کی مذمت کی ہے۔بی بی سی گلوبل نیوز کی لینگویج کنٹرولر للین لینڈور نے کہا ہے کہ ’ہمارے عملے کی بہبود اور حفاظت ہماری اوُلین ترجیح ہے خاص طور پر اس وقت جب وہ ان حالات میں کام کر رہے ہوں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی اور کسی بھی تنظیم کے صحافیوں کو لیبیا کے حالات پر بے خوف رپورٹنگ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
للین کا کہنا تھا کے ’اس حملے کے باوجود بھی بی بی سی کا ادارہ لیبیا کے بدلتے حالات پر لیبیا کے اندر اور باہر اپنی رپورٹنگ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
پیر کے روز بی بی سی کے صحافیوں نے گرفتاری سے قبل فوجی حکام کی جانب سے گرفتار کیے جانے پر اپنے شناختی کارڈ دکھائے تھے۔یہ صحافی دوسرے صحافیوں کی طرح زاویہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جو سرکاری فورسز کے محاصرے میں ہے۔
ان میں سے تین صحافیوں کو طرابلس میں ایک بڑے فوجی بیرک میں لیجایا گیا جہاں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں باندھ کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔
ان صحافیوں میں سے ایک کرس باب کا کہنا تھا کہ ’ہمیں دیوار کی جانب منہ کر کے کھڑا کر دیا گیا جس کے بعد سادہ لباس میں ایک شخص جس کے ہاتھ میں چھوٹی مشین گن تھی ہمارے نزدیک آیا اس نے باری باری سب کی گردن پر گن رکھی اور جب میں نے اس کی جانب دیکھنے کی کوشش کی تو وہ زور سے چیخا اور میری کان پر گن لگا کر ٹریگر دبایا گولی بالکل میرے کان کے پاس سے گزری جس پر وہاں موجود باقی فوجی قہقہ لگانے لگے۔‘
بی بی سی کے دوسرے صحافی فراس کلانی کے ساتھ زیادہ مار پیٹ کی گئی فوجیوں کا کہنا تھا کہ انہیں لیبیا کے معاملے پر فراس کی رپورٹنگ پسند نہیں انہوں نے فراس کو جاسوس کہا۔
ان تینوں میں کیمرہ مین گوکٹے کورالتن بھی شامل تھے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین تھا کہ ہم سب مارے جائیں گے۔‘
اپنی قید کے دوران ان تینوں نے گرفتار شدہ باغیوں کے ساتھ زیادتیوں کے منظر بھی دیکھے۔
گوکٹے کورالتن کا کہنا تھا کہ ’میں ان قیدیوں کی حالت بیان نہیں کر سکتا ان کو منہ ڈھانپے گئے تھے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور مار پیٹ کے سبب وہ بری طرح زخمی تھے ‘۔
اس واقعہ کے بعد لیبیا کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کی ٹیم کےساتھ بدسلوکی کے لیے معذرت کی۔
قذافی کی سفارتی کوششیں

،تصویر کا ذریعہGetty
کرنل قذافی نے بین الاقوامی سطح پر لیبیا پر پڑنے والے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔
کرنل قذافی نے اعلی سرکاری اہلکاروں کو مصر، یورپی یونین کے ہیڈکواٹر برسلز اور پرتگال روانہ کیا ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لسبن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لیبیا کے ایک سرکاری اہلکار نے پرتگال کے وزیر خارجہ لوئس امادو سے ملاقات کی ہے۔
پرتگال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور اقوام متحدہ کی اس کمیٹی کا سربراہ بھی ہے جس نے لیبیا پر پابندی عائد کی ہیں۔
پرتگال کے وزیر خارجہ سے ملاقات سے قبل لیبیا کے سرکاری اہلکار نے مالٹا کے وزیر اعظم سے ملاقات کی۔
کرنل قذافی نے میجر جنرل عبدالرحمان بن علی السعید کو عرب لیگ کے لیے ایک پیغام دے کر قاہرہ بھیجا ہے۔
قاہرہ میں عرب لیگ کے ممالک کے وزراء خارجہ کا اجلاس ہفتے کو ہو رہا ہے۔
نوفلائی زون کی تجویز
قذافی کی طرف سے اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی قوت کے بے دریغ استعمال پر بین الاقوامی برادری لیبیا پر فضائی پابندی لگانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے کہا ہے کہ مغربی ممالک یا اقوامِ متحدہ نے حکومت مخالف افراد کے کہنے پر نو فلائی زون کا اطلاق کیا تو اس کے خلاف لیبیا کی عوام مسلح جدوجہد کرے گی۔
ترکی کے ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں کرنل قذافی نے کہا کہ نو فلائی زون کا اصل مقصد لیبیا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔
معمر قذافی نے کہا ’اگر نو فلائی زون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو یہ لیبیا کی عوام کے لیے اچھا ہو گا۔ کیونکہ عوام کو سچائی معلوم ہو گی کہ اصل مقصد لیبیا کا کنٹرول اور تیل حاصل کرنا ہے۔ اور یہ سچائی جاننے کے بعد عوام مسلح جدوجہد کے لیے تیار ہو جائیں گے۔‘
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ نو فلائی زون کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کرے گی۔
زاویہ میں لڑائی جاری
سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ زاویہ پر سرکاری فوج نے قبضہ کر لیا ہے اور حکومت کے حامیوں کے قذافی کے حق میں مظاہرے کے مناظر بھی نشر کیے۔
لیبیا کی فوج کے ایک کپتان نے کہا کہ شہر کا پچانوے فیصد حصہ محفوظ ہے لیکن کچھ گلیوں اور کچھ عمارتوں میں چند چوہے چھپے ہوئے ہیں جن کو وہ ایک ایک کرکے پکڑ رہے ہیں۔
صحافیوں کو لڑائی سے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اس لیے فریقین کی طرف سے کیے جانے والے دعوؤں کی تصدیق نہیں جا سکی۔
نامہ نگاروں کے مطابق گزشتہ ماہ معمر قذافی کے اکتالیس سالہ دورہ اقتدار کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے انجام کے بارے میں اب کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
طرابلس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کے مطابق حکومتی فوج باغیوں کے مقابلے میں بہتر اسلحے اور منظم ہونے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
طرابلس سے تیس میل کے فاصلے پر واقع زاویہ شہر کو گزشتہ چار دن سے سرکاری فوجیں توپوں اور ٹینکوں سے نشانہ بنا رہی ہیں جبکہ سائنپرز یا نشانچیوں کو بھی اہم جگہوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک باغی نے بتایا کہ بدھ کو سرکاری فوج نے شہر کے مرکزی چوک پر عارضی طور پر قبضہ کر لیا تھا لیکن تھوڑی دیر میں باغیوں نے اس پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔
ایک باغی ابراہیم نے بتایا کہ ’ہم ٹینک دیکھ سکتے ہیں، ہر طرف ٹینک ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں اور وہ ان کو دفنا بھی نہیں سکتے۔
ایک ڈاکٹر نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک دن میں کم از کم چالیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور لوگ فرار ہو رہے ہیں۔
مشرقی محاذ پر بحیرہ روم پر تیل کی اہم بندگارہ راس الانوف کے گردو نواح سے باغی شدید بمباری اور فضائی حملوں کی وجہ سے پسپاہ ہو گئے ہیں۔
بدھ کو راس لانوف میں ایک تیل ذخیرہ کرنے والا ٹینک دھماکے سے تباہ ہو گیا جس سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دور دور تک دیکھے گئے۔
قریبی شہر سدرہ میں بھی دھماکے ہوئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق سدرہ میں ایک تیل پائپ لائن کو اڑا دیا گیا ہے۔
قذافی کے بیٹے کے گھر پر قبضہ
لندن میں قذافی کے بیٹے سیف السلام کے محل پر قبضہ کرلیا ہے۔
محل پر قبضہ کرنے والوں نے کہا کہ انھوں یہ اقدام لیبیا کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اٹھایا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سیف السلام نے ایک کمپنی کے نام پر یہ محل خرید رکھا ہے جو کہ برٹش ورجن آئرلینڈ میں رجسٹرڈ ہے تاکہ برطانیہ میں لگاؤ ٹیکسوں سے بچا جا سکے۔



















