’سعودی فوج کی موجودگی ناقابلِ قبول‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایران نے بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں پر قابو پانے کے لیے عرب ممالک کی افواج کی آمد کو ناقابلِ قبول قراد دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ اقدام بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب یہ بیان سعودی افواج کی بحرین میں موجودگی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے بحرین میں سعودی فوجیوں کی آمد کے حوالے سے کہا ہے کہ اُسے اس فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
پینٹاگان نےخلیج تعاون کونسل میں شریک ممالک کو اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں کسی بھی اقدام سے فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحرین میں پہنچنے والی فوج کا تعلق خلیج تعاون کونسل میں شریک ممالک سے ہے۔
اس کونسل میں بحرین، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے ترجمان کے مطابق بحرین میں پانچ سو پولس اہلکاروں کو بھیجا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پہلا موقع ہے کسی عرب ملک نے حالیہ مظاہروں کو روکنے کے لیے غیر ملکی فوج کی مدد حاصل کی ہے۔
دوسری جانب بحرین کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوج حکومت کی درخواست پر بحرین آئی ہے۔
بحرین کی حکومت نے خلیج کونسل سے فوج بھیجنے کی درخواست اس وقت کی جب پچھلے ماہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں سات حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔



















