خلیجی ممالک کی فوج بحرین پہنچ گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بحرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں حالیہ مظاہروں کو روکنے کے لیے سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک کی فوج بحرین پہنچ گئی ہے۔
بحرین میں پہنچنے والی فوج کا تعلق خلیج تعاون کونسل میں شریک ممالک سے ہے۔ اس کونسل میں بحرین، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
بحرین کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ فوج حکومت کی درخواست پر بحرین آئی ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ فوجیوں کا بحرین میں آنا ملک پر قبضے کے مترادف ہے۔
بحرین کی حکومت نے خلیج کونسل سے فوج بھیجنے کی درخواست اس وقت کی جب پچھلے ماہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں سات حکومت مخالف مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔
خلیجی فوج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ فوج تیل اور گیس کی اہم تنصیبات کی حفاظت کرے گی۔
سعودی حکام نے بھی بحرین میں فوج بھیجنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایک ہزار سعودی فوجی پیر کی صبح بحرین پہنچ گئے ہیں۔
بحرین کے دارالحکومت ماناما میں حکومت مخالف مظاہرین نے پرل سکوائر پر قبضے بددستور رکھا اور آس پاس رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکیں بند کردیں۔
خلیج کونسل کی فوج کی آمد سے قبل شیعہ حزب اختلاف نے ایک بیان میں کہا ’کسی بھی فوجی، فوجی گاڑی کا بحرین کی حدود میں داخل ہونا ۔۔۔۔ بحرین پر بالواسطہ قبضہ ہے اور بحرین کے نہتے لوگوں کے خلاف سازش ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ شاہ حماد بن عیسیٰ سلخلیفہ نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل حکومت کو مستعفی ہونا ضروری ہے۔
حزبِ اختلاف اور مظاہرین میں سے زیادہ تر کا کہنا ہے کہ وہ بادشاہت ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن شاہی خاندان کو اپنے زیادہ تر اختیارات منتخب پارلینٹ کو منتقل کر دینے چاہیے۔



















