شام: حکومت مخالف مظاہروں میں پانچ ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق شام کے شہر درعا میں ایک مسجد کے باہر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے پانچ مظاہرین ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ عمری مسجد کے پاس پیش آیا ہے اور مسجد میں فورسز کے داخلے کو روکنے کے لیے اس کے آس پاس کی گلیوں میں بہت سے جمع ہوگئے تھے۔
شام میں حکام نے اس تشدد کے لیے ایک مسلح گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
گزشتہ جمعہ سے یہ مسجد حکومت مخالف مظاہرین کا مرکز ہے جہاں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ اب تک پولیس اور فوج کے ساتھ جھڑپ میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کے ساتھ گزشتہ چار روز کی جھڑپوں کے بعد منگل کو درعا میں قدرے سکون تھا۔ پرانے شہر کی عمری مسجد کے پاس سینکڑوں لوگ جمع تو ہوئے لیکن سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کر دیا تھا۔
لیکن دوپہر کے بعد بعض مظاہرین نے مسجد کے باہر ٹینٹ لگا دیے اور کہا کہ جب تک سیاسی آزآدی اور بدعنوانی کے خاتمے کے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن نصف شب کے بعد وہاں کی بجلی کی سپلائي اور ٹیلی فون لائنز کاٹ دی گئیں۔ اس سے پہلے کہ فون لائن ڈیڈ ہوتی ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز عمری مسجد کے اندر داخل ہوگئے، انہوں اشک آور گیس چھوڑی اور پھر انہوں نے مظاہرین پر گولی چلائی۔‘
ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو تشدد کے بعد متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے وہاں گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سیاسی کارکن کا کہنا تھا کہ پرانے علاقے میں پوری طرح سے تاریکی تھی اس لیے ’حقیقت میں کیا ہوا ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔‘
حکومت نے اس کے لیے ایک مسلح کروپ کو ذمہ دار بتایا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مظاہرین دراصل اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحد کے ادارے کے سربراہ نوی پلاّئی نے شام سے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف بہت زيادہ طاقت کے استمعال سے باز رہیں۔



















