لیبیا کا مستقبل؟

- مصنف, محمد حسین
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
- وقت اشاعت
اقوام متحدہ کی قرارداد کو نافذ کرنے کے لیے مغربی ممالک کے اتحاد نے لیبیا میں ایک ہفتے سے بمباری شروع کر رکھی ہے لیکن لیبیا کے اندورانی مسائل کا حل نظر نہیں آتا۔
کرنل قدافی کی حکومت ملک کے مغربی علاقوں میں جمی ہوئی ہیں اور لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی سمیت مشرقی علاقے باغیوں کے قبضے میں ہیں، اور لیبیا عملاً دو علیحدہ ریاستوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی مارچ سترہ کو منظور کی جانے والے قرارداد نمبر 1973 تقاضا کرتی ہے کہ لیبیا کے اوپر نو فلائی زون قائم کیا جائے اور لیبیا کی حکومت میں شامل اہلکاروں کے تمام اثاثہ جات کو منجمد کیا جائے۔
اگرچہ اقوام متحدہ کی قرارداد ممبر ممالک کو اجازت دیتی ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا سکتے ہیں، لیکن قرارداد لیبیا میں غیر ملکی افواج کی زمینی کارروائی کی واضح الفاظ میں ممانعت کرتی ہے۔
جب سے قرار داد منظور ہوئی ہے امریکی قیادت میں مغربی اتحاد کرنل قدافی کی افواج کےخلاف فضائی حملے کر رہا ہے جس سے لیبیا کی ایئرفورس بظاہر ناکارہ ہو گئی ہے۔
اتحادی افواج کی ابھی تک سب سے بڑی کامیابی کرنل قدافی کی فوج بن غازی پر دھاوا بولنے کے لیے تیار فوج کو ایسا کرنے سے روکنا ہے لیکن ماہرین کے تمام اندازے کہ کرنل قدافی کی ایئرفورس کو ناکارہ کرنے سے باغی جلد ہی لیبیا پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جائیں گے، غلط ثابت ہوئے ہیں۔
لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی پر کرنل قدافی کے مخالف باغی فضائی تحفظ مہیا ہونے کے باوجود اس کا فاہدہ اٹھا کر مغرب کی طرف پیشقدمی کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ غیر منظم اور غیر تربیت یافتہ باغی فضائی تحفظ کی فراہمی کے باوجود ابھی تک ان علاقوں کا بھی دوبارہ کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں سکے ہیں جو اقوام متحدہ کی قرار داد سے پہلے ان کے قبضے میں تھے۔
لیبیا پر مغربی ممالک کے طیاروں کے فضائی حملوں کے بعد ایسے فوجی دستے بالخصوص سائقہ سپیشل فورسز جو کرنل قدافی کی حمایت نہیں کر رہے تھے، بظاہر یونیفارم اتار کر عوام میں گھل مل گئے ہیں لیکن وہ باغیوں سے نہیں ملے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبیا کی سپیشل فورسز کے کمانڈر فتح یونس جو کرنل قدافی کو چھوڑ کر باغیوں پر مشتمل آرمی آف فری لیبیا کی سربراہی کر رہے ہیں، سپیشل فورسز کے اہلکاروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کرنل قدافی کی افواج باغیوں کے قبضے میں مصراتا، زنتان پر اپنا گھیرا تنگ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب لیبیائی باغی ابھی تک لیبیا کے عوام سے اپنا تعلق نہیں بنا سکے ہیں اور نہ ہی وہ بیرونی دنیا کو اپنے موقف سنا چکے ہیں۔ بیرونی دنیا سے رابطہ لیبیا کے باغیوں کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مزید براں لیبیا کے باغیوں نے فروری میں بن غازی پر حملے کے بعد جو عبوری نیشنل کونسل قائم کی تھی جو زیادہ تر کرنل قدافی کی حکومت میں کام کرنے والے افراد پر مشتمل تھی، وہ ابھی تک لیبیا کے عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے کہ کرنل قدافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک کا انتظام کیسے چلے گا جس سے لیبیا کے عوام اور مغربی ممالک میں شکوک پیدا ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کرنل قدافی کی افواج باغیوں کو قابو کرنےمیں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں اور عملاً ملک دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ لیبیا کا دو حصوں میں تقسیم ہونا لیبیا پر بمباری کرنے والے ممالک کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ ان کو ایک لمبے عرصے تک نو فلائی زون کو برقرار رکھنا پڑے گا اور مغرب کے پالیسی سازوں کو عراق پر دس برس تک نو فلائی زون پر اٹھنے والے اخراجات ذہن میں ابھرنا شروع ہو جائیں گے۔
باغیوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ عمدہ حکمت عملی کو اپناتے ہوئے پورے لیبیا پر قبضہ کریں اور ملک کو کرنل قدافی کے اقتدار سے چھٹکارا دلائیں۔
باوجود اس کے سکیورٹی کونسل کی قرار غیر ملکی افواج کی لیبیا میں کارروائی کی ممانعت کرتی ہے لیکن عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ’تمام ضروری اقدامات‘ لینے کی اجازت دیتی ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب نکل سکتا ہے کہ سپیشل گراونڈ فورسز لیبیا کے اندر داخل ہو کرعوام کو کرنل قدافی سے چھٹکارا دلائیں۔ شاید اسی طرح اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت عوام کو کرنل قدافی کے جبر سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔



















