ہلمند: طالبان کی دھمکی، موبائل سروس معطل

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی دھمکی کے بعد تمام موبائل ٹیلی فون نیٹ ورکس بند کر دیے گئے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیوں کی جانب سے حکم کی تکمیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ شدت پسند افغانستان کے سب سے زیادہ شورش زدہ علاقے میں کتنے مضبوط ہیں۔
صوبہ ہلمند نیٹو افواج کا طالبان کے خلاف کارروائیوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔
منگل کو افغان صدر حامد کرزئی نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال جولائی سے صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز سنبھال لیں گی۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار داؤد اعظمی کا کہنا ہے کہ صوبہ ہلمند میں موجود چند ایک موبائل کمپنیاں لوگوں کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ صوبے میں صرف ایک فیصد لینڈ لائن ٹیلی فون موجود ہیں۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ صوبہ ہلمند میں طالبان نے مکمل طور موبائل ٹیلی فون نیٹ ورکس کو بند کر دیا ہے۔
یہ ابھی تک واضح نہیں کہ موبائل نیٹ ورکس کو دوبارہ کب کھولا جائے گا۔
طالبان کا کہنا ہے کہ موبائل فون ان کے دشمن استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے رابطوں پر نظر رکھی جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے بھی طالبان زبردستی موبائل فون نیٹ ورک بند کروا چکے ہیں لیکن صرف دن کے کسی مخصوص حصے کے لیے۔
شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ اگر موبائل فون کمپنیوں نے ان کے احکامات کی پابندی نہ کی تو ان کے ٹاورز یا کھمبوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا جائے گا۔
اس سے پہلے بھی صوبہ ہلمند میں شدت پسندوں کی جانب سے پابندی کا حکم نہ ماننے پر موبائل کمپنیوں کے دو کھمبوں کو جلا دیا گیا تھا۔
طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسی کمپنی نے عائد کی گئی پابندی کی خلاف ورزی کی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔
تاہم ہو سکتا ہے کہ پابندی طالبان کے لیے بھی نقصان کا سبب بنے، کیونکہ وہ بھی ایک دوسرے سے رابطوں کے لیے موبائل فون استمال کرتے ہیں۔
طالبان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور مقامی اشتہاری ایجنسیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے موبائل فونز کا استعمال کرتے ہیں۔
ان میں ٹیکسٹ پیغامات اور ویڈیو کلپس شامل ہیں۔
صوبہ ہلمند کے بعض علاقوں میں طالبان کے ترانوں کو رنگ ٹون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔



















