شام: حکومت مخالف مظاہروں میں دو ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
حکام کے مطابق شام کے تاریخی شہر لازقیہ میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کر دی تھی۔
گزشتہ ہفتے کئی شہروں میں صدر بشر الاسد کے اقتدار کے خلاف مظاہرے کرنے والے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام ان کا ذمہ دار مسلح گروہوں کو ٹھہرا رہے ہیں جو ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ساحلی شہر لازقیہ اور جنوبی شہر تفس میں مشتعل مظاہرین نے برسرِ اقتدار باتھ پارٹی کے دفاتر کو جلا دیا ہے۔
اس سے قبل امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے طاقت کے بے جا استعمال پر شام کی حکومت کی مذمت کی ہے۔
سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شام کے صدر بشر الاسد کے ساتھ ٹیلیفون پر بات کی اور انہیں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
شام میں مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ ہفتہ شروع ہوا تھا جب جنوبی شہر دیرہ میں حکومت نےمظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا اور اس میں کئی افراد ہلاک ہو گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ شام میں گزشتہ ایک ہفتے میں پچپن مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعہ کو دیرہ کے قریبی شہروں، ہومس، ہما، ٹیل، اور لازقیہ میں مظاہرے ہوئے۔البتہ دارالحکومت دمشق اور ایلیپو میں مظاہرین کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی۔



















