اوباما کا لیبیا جنگ کے فیصلے کا دفاع

صدر اوباما
،تصویر کا کیپشنصدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی شمولیت محدود رہے گی
وقت اشاعت

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنی صدارت میں لڑی جانے والی پہلی جنگ کا دفاع کیا ہے اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ لیبیا کے خلاف جنگ میں امریکہ کی شمولیت محدود ہو گی۔

امریکی عوام سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت سے ’لامحدود جانیں‘ بچی ہیں جنہیں جابر حکمراں معمر قذافی کی فوجوں سے خطرہ تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مہم کو شروع کرنے کے بعد بدھ سے امریکہ اسے نیٹو کے حوالے کر دے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ لیبیا اس وقت تک خطرناک رہے گا جب تک کرنل قذافی اقتدار میں ہیں۔

دوسری طرف کرنل قذافی کے آبائی شہر سرت کی طرف باغیوں کی پیشقدمی سست پڑ گئی ہے۔

لیبیا کے باغی
،تصویر کا کیپشنسرت شہر کے نزدیک باغی کی پیشقدمی سست پڑ گئی ہے

اگرچہ نیٹو اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ وہ لڑائی میں غیر جانبدار ہے، تاہم روس نے اس کے متعلق یہ کہہ کر تشویش ظاہر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1973 نے اندرونی خانہ جنگی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی ہے۔

اقوامِ متحدہ، نیٹو، افریقی یونین اور عرب لیگ کے تقریباً چالیس کے قریب مندوبین منگل کو لندن میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ لیبیا کے متعلق مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کریں گے۔

واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ ’آج رات، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے قذافی کی جان لیوا پیشقدمی کو روک دیا ہے۔‘

’ہمیں ہولناک سطح کے ممکنہ تشدد کا سامنا تھا۔ ہمارے پاس اس تشدد کو روکنے کی خاص صلاحیت تھی، جو کہ کارروائی کے لیے ایک بین الاقوامی مینڈیٹ تھا۔ وسیع تر اتحادی ہمارے ساتھ شمولیت کے لیے تیار تھے، عرب ممالک کی حمایت تھی اور لیبیائی عوام کی مدد کے لیے پکار۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لیبیا قذافی کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بہتر ہو گا لیکن مشن کو پھیلا کے اس میں حکومت کی تبدیلی کو شامل کرنا ایک غلطی ہو گی۔‘

لیبیا سے آنے والی اطلاعات کے مطابق باغیوں کی فوج تیزی سے مغرب کو بڑھ رہی ہے لیکن سرت شہر سے جہاں کرنل قذافی کی جائے پیدائش ہے، باغیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔

نیٹو نے اسی دوران کہا ہے کہ اس کے فضائی حملے باغیوں کی پیشقدمی کو تحفظ دینے کے لیے نہیں ہیں۔