قذافی کے سفیر کی برطانوی حکومت سے بات چیت

لیبیا کے تین وزراء جن کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ طرابلس چھوڑ کر تیونس پہنچ گئے ہیں
،تصویر کا کیپشنلیبیا کے تین وزراء جن کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ طرابلس چھوڑ کر تیونس پہنچ گئے ہیں
وقت اشاعت

لیبیا کے صدر معمر قذافی کے ایک سفیر نے گزشتہ چند دنوں میں لندن میں برطانوی حکومت سے بات چیت کی ہے۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جیمز ریبن کے مطابق محمد اسماعیل نے جو کہ کرنل قذافی کے صاحبزادے سیف السلام کے مشیر ہیں لندن میں کرنل قذافی کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے بارے میں برطانوی حکام سے بات چیت کی ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی حکومت سے رابطوں پر ’رواں تبصرہ‘ فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم دفتر خارجہ نے کہا کہ معمر قذافی کی حکومت سے جو بھی رابطہ ہوا ہے ان پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ قذافی کو ہر حال میں اقتدار سے علیحدہ ہونا ہو گا۔

قیاس یہ کیا جا رہا ہے کہ محمد اسماعیل صدر قذافی اور ان کے رفقاء کے لیے لیبیا سے نکلنے کے محفوظ راستے پر بات چیت کرنے کے لیے آئے تھے لیکن دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ معمر قذافی کے اردگرد تمام لوگوں کو حکومت سے علیحدہ ہو جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ محمد اسماعیل کس کے کہنے پر لندن آئے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ واپس طرابلس پہنچ گئے ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ معمر قذافی کے تین صاحبزادے محفوظ راستہ حاصل کرنے اور لیبیا چھوڑنے کے لیے بےتاب ہیں۔

قذافی کے بیٹے جو لیبیا سے نکلنے کے لیے زیادہ خواہش مند ہیں ان میں سیف السلام، سعدی اور متصم کے نام لیے جا رہے ہیں۔

لیبیا کے وزیر خارجہ موسی کوسا کے بدھ کو برطانیہ پہنچنے پر برطانوی حکام نے کہا تھا کہ معمر قذافی کی حکومت اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔

دریں اثنا عربی ٹی وی چینل الجزیزہ نے اطلاع دی ہے کہ لیبیا کی حکومت کے کئی اعلی اہلکار فرار ہو کر تیونس پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ دوسرے ملکوں کے لیے پروازیں لینے کے منتظر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان میں لیبیا کے تیل کے وزیر، انٹیلیجنس کے وزیر، نائب وزیر خارجہ اور جنرل پیپلز کانگرس کے سپیکر بھی شامل ہیں۔

موسا کوسا بدھ کو برمنگھم پہنچے تھے
،تصویر کا کیپشنموسا کوسا بدھ کو برمنگھم پہنچے تھے

ادھر امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ اتحادیوں کے سینکڑوں فضائی حملوں کے باوجود لیبیائی فوج کی طاقت ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں پہنچی ہے۔

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے مخالفین کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے پر نیٹو کے سربراہ اندرے فوگ راس موسن اور برطانیہ اور امریکہ میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

نیٹو کے سربراہ نے لیبیا میں باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی مخالفت کی ہے جبکہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ اس کی حمایت میں ہیں۔

اندرے راس موسن نے ایک بیان میں کہا کہ نیٹو کا کام لیبیا میں شہریوں کا دفاع کرنا ہے نہ کہ باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنا۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ لیبیا میں فضائی کارروائی سے کرنل قذافی کی فوجی قوت کا چوتھائی حصہ تباہ ہو گیا ہے۔

امریکہ کانگریس کے ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی ایک کمیٹی کے سامنے ایک بیان دیتے ہوئے ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ سینکڑوں فضائی حملوں کے باوجود لیبیائی فوج کی طاقت ابھی ختم ہونے کے قریب نہیں پہنچی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابھی بھی باغیوں کی تعداد قذافی کی افواج سے کہیں کم ہے اور باغیوں کو ایک کے مقابلے دس فوجیوں کا سامنا ہے۔

امریکہ وزیر دفاع نے اسی سماعت کے دوران کہا کہ اب یہ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک پر ہے کہ وہ باغیوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کریں۔

کانگریس کی کمیٹی میں امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے یہ موقف دوہرایا کہ امریکہ لیبیا میں زمینی مداخلت نہیں کرے گا۔