اسرائیل کسی جلدی میں نہیں

براک اوباما اور شمون پیریز
،تصویر کا کیپشن’اسرائیلی صدر سے کہہ دیا ہے کہ اسرائیل اپنے آس پاس سیاسی تبدیلیوں میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے‘
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی واشنگٹن
  • وقت اشاعت

مشرق وسطیٰ میں سیاسی تبدیلیوں کو لبیک کہنے والوں میں اسرائیل شامل نہیں ہے. شام میں جاری مظاہروں پر ایک اسرائیلی تبصرہ نگار نے کہا کہ فیس بک اور انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کی امنگوں کے اظہار سے جمہوریت نہیں آتی، اگر آ بھی جائے تو کسے پتہ یہ کون سے لوگ ہیں اور اقتدار پر آنے کے بعد ان کا رویہ کیسا ہوگا؟

اسرائیل کی تاریخ میں اس کی سرحدوں کے قریب اتنی زبردست سیاسی بے چینی پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی. اپنے ہمسایہ عرب ممالک میں سیاسی استحکام کا اسرائیل عادی ہو چکا تھا۔ لیکن اسرائیل میں اب اضطراب پایا جاتا ہے۔ اسرائیل کو ڈر اس بات کا ہے کے مصر میں انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے پر عمل کرے گی یا نہیں۔

اسے ڈر اس بات کا بھی ہے کہ سیاسی خلاء میں اسلامی انتہا پسند تنظیمیں اقتدار میں نہ آجائیں، زیادہ تر اسلامی انتہاء پسند تنظیمیں اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتیں۔

ایسے میں اسرائیل کے صدر شمون پیریز کا امریکہ تشریف لانا کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے صدور نے مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کی لہر سے اسرائیل پر اثر اور فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی جیسے موضوعات پر بات چیت کی۔

ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کچھ سرد مہری دکھائی دیتی ہے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کے صدر سے اپنی ملاقات کے دوران کہا کہ انھیں یقین ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی لہر جہاں ایک چیلنج ہے تو وہیں یہ امن کی بحالی کا ایک موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

فلسطینی ریاست کے قیام کا مقصد بھی پورا ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کے شمون پیریز ان سے متفق تھے۔ امریکی صدر کا اصرار تھا کے دونوں فریق کے درمیان قیام امن پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

خطّے میں قیام امن کے لئے ہونے والے مذاکرات معطل ہیں جس کی خاص وجہ یہ ہے کے مقبوضہ علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کے قیام کا سلسلہ جاری ہے اور فلسطینی کہتے ہیں ایسے میں مذاکرات ممکن نہیں۔

امریکہ کا موقف بھی یہی ہے کی نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سے مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے اسرائیل کی حکومت نے امریکہ کے موقف پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور منگل کو مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک ہزار نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ فلسطینیوں نے اس فیصلے کو اکسانے والا ایک قدم قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں منگل کو دو پہر کے کھانے کے بعد صدر اوباما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کے آس پاس سیاسی تبدیلیوں میں اسرائیل ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں موجود اسرائیلی یہودیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیل سے امن مذاکرات بحال کرنے پر اصرار کر رہی ہے لیکن اسرائیلی حکومت کسی جلدی میں نظر نہیں آتی۔