فرانس، برقعہ پر پابندی نافذ العمل

فرانس میں نقاب پوش خاتون(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنفرانس میں ایک اندازے کے مطابق صرف دو ہزار خواتین برقعہ پہنتی ہیں
وقت اشاعت

فرانس میں عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر کا قانون آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے ۔

اس قانون کے تحت مسلمان خواتین عوامی مقامات پر اپنے چہرے کو ڈھانپ نہیں سکیں گی اور ایسا کرنے کی صورت میں پولیس انہیں روک کر ڈیرہ سو یورو جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والی کو شہریت کے کورس میں شرکت کرنی پڑے گی۔

ایسے افراد جو خواتین کو چہرہ ڈھانپے پر مجبور کریں گے انہیں زیادہ سزا دی جائے گی۔ فرانس یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے مسلمان خواتین کو عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپے پر پابندی عائد کی ہے۔ .

فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کا کہنا ہے کہ برقعہ خواتین کے ساتھ زیادتی ہے اور فرانسیسی اقدار ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ جبکہ اس قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ برقعے پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فرانس میں عوامی سطح پر اس قانون کو بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تاہم اس کے مخالفین بتاتے ہیں کہ ملک میں ایسی خواتین کی تعداد بہت کم ہے جو برقعہ پہنتی ہیں۔

قانون کے تحت خواتین کو برقعہ پہننے پر مجبور کرنے والوں کو تیس ہزار یورو جرمانے کے علاوہ دو سال تک قید کی سزا بھی سنائی جائے گی۔

حکومتی اندازوں کےمطابق فرانس ملک میں ساٹھ لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں جو فرانس کی کل آبادی کے دس فیصد سے بھی کم ہے۔اس طرح مغربی یورپ میں یہاں کے مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں۔