امریکہ سی آئی اے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کرے: پاکستان

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے اوباما انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے
وقت اشاعت

پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے سی آئی اے اور سپیشل فورسز کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کرے اور ڈرون حملوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جائے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی اور پاکستانی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد پاکستان نے واضح طور پر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ سی آئی اے اور سپیشل فورسز کی سرگرمیوں کو محدود کرے۔

اخبار نے پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان تین سو پینتیس امریکیوں کو پاکستان کی سرزمین چھوڑنے کے لیے کہنے والا ہے جن کی سرگرمیوں کا پاکستان کو نہیں بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بذات خود اوباما انتظامیہ کے اہلکاروں سے کہا ہے کہ امریکہ سی آئی اے اور سپیشل فورسز کی سرگرمیوں کو محدود کرے۔

اس سلسلے میں پیر کو پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کی سی آئی اے کے سربراہ لیون پناٹا کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات ہوئی ہے۔

سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے سربراہان کی ملاقات کے بعد سی آئی اے کی ترجمان جارج لٹل نے کہا ہے کہ ملاقات سودمند رہی اور دونوں اداروں کے تعلقات ہمیشہ کی طرح مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ سی آئی اے ترجمان نے کہا کہ ملاقات میں مشترکہ دشمنوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور قریبی رابطے رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کی فوج کو پختہ یقین ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف پاکستان کا جوہری پروگرام ہے اور وہ اسے ختم یا ناکارہ کرنا چاہتا ہے۔

اخبار کے مطابق ریمنڈ ڈیوس لاہور میں گرفتاری کے وقت سی آئی اے کے ایک منصوبے کے تحت لشکر طیبہ کی صفوں میں گھسنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ امریکی صدر براک اوباما کے مطالبے کے باوجود ریمنڈ ڈیوس کو مقتولین کے ورثاء کو تیئس لاکھ پونڈ کی خون بہا کی رقم کی ادائیگی کے بعد رہا کیا گیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اوباما انتظامیہ سے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کی تعداد میں کم کی جائے اور اس کا دائرہ کار شدت پسندوں کے گڑھ شمالی وزیرستان تک محدود کیا جائے۔