یمن کے لیےعرب امن منصوبہ تیار

تیونس میں کامیاب انقلاب کے بعد یمنی بھی تین عشروں سے اقتدار پر براجمان عبداللہ صالح کو ہٹانے کے لیے متحرک ہو گئے
،تصویر کا کیپشنتیونس میں کامیاب انقلاب کے بعد یمنی بھی تین عشروں سے اقتدار پر براجمان عبداللہ صالح کو ہٹانے کے لیے متحرک ہو گئے
وقت اشاعت

خلیج تعاون کونسل کی طرف سے یمن میں امن کی بحالی کے لیے تیار کیے والے منصوبے کے تحت صدر عبداللہ صالح اپنی اور خاندان کے تحفظ کی ضمانت پر اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔

خلیج تعاون کونسل جو بحرین، سعودی عرب، کویت، عمان، قطر، اور متحدہ عرب امارت پر مشتمل ہے، یمن میں کئی مہینوں سے جاری کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے میدان میں اترا ہے۔

بی بی سی کو اس امن منصوبے کی تفصیلات کو دیکھنے کا موقع دیا گیا ہے۔

صدر عبداللہ صالح خلیج تعاون کونسل کی مصالحت کاری کے حوالے سے اپنا موقف تین مرتبہ تبدیل کر چکے ہیں۔ صدر صالح نے پہلے خلیج تعاون کونسل کی مصالحت کاری کا خیر مقدم کیا، بعد میں مسترد کر دیا لیکن کچھ دن پہلے اسے پھر تسلیم کر لیا۔

اگر اس منصوبے کو تسلیم کر لیا گیا تو عبد اللہ صالح اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں اور نائب صدر عبوری حکومت سنبھال لیں گے اور ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ہو گا۔

صدر صالح کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار ہیں لیکن کچھ دنوں پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔

بعض مبصرین کے خیال میں صدر عبد اللہ صالح کی طرف سے خلیج تعاون کونسل کی مصالحت کاری کے حوالے سے متضاد بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن بعض دوسرے مصبرین کے مطابق صدر صالح اپنے لیے ایک اچھی ڈیل لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یمن میں گزشتہ دو ماہ سے جاری احتجاج کے دوران سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔