فلسطینی نواز اطالوی کارکن ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سکیورٹی حکام کے مطابق غزہ سے اغواء ہونے والے فلسطینی نواز کارکن وٹاریو آریگونی کی لاش ملِ گئی ہے۔
وٹاریو کو جمعرات کی صبح ایک ایسے شدت پسند گروپ نے اغواء کر لیا تھا جو ان کے بدلے اپنے رہنماء کو رہا کرانا چاہتا تھا۔
حماس کا کہنا ہے کہ وٹاریو آریگونی کو ہلاک کرنے کے بعد لٹکا دیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کو اطالوی کارکن کے بارے میں خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل ہوئی تھیں لیکن جب پولیس اس مقام پر پہنچی تو وہاں اس کی لاش کھمبے سے لٹک رہی تھی۔
سن دو ہزار سات میں بی بی سی کے صحافی ایلن جانسٹن کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے جب کسی غیر ملکی باشندے کو اغواء کیا گیا ہو۔
حماس کے ایک اہلکار کے مطابق وٹاریو آریگونی کے قتل کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جس وقت وٹاریو آریگونی کی لاش برآمد ہوئے، وہ اس سے کئی گھنٹے پہلے ہلاک ہو چکے تھے۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جون ڈونیسن کے مطابق چھتیس سالہ وٹاریو آریگونی کو حماس کی مخالفت کرنے والی ایک سلفی انتہا پسند تنظیم اغواء کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار کے مطابق یہ تنظیم حماس کو ایک نرم موقف رکھنے والی جماعت سمجھتی ہے۔
تنظیم نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما شیخ ابو ولید المقدسی سمیت ان کی اعلیٰ قیادت کو رہا نہ کیا گیا تو وہ آریگونی کو قتل کر دیں گے۔ شیخ مقدسی کو حماس پولیس گزشتہ ماہ غزہ شہر سے گرفتار کیا تھا۔
یو ٹیوب پر لگائے جانے والے ایک وڈیو میں بظاہر آریگونی کو زدوکوب ہوتا دکھایا گیا ہے۔ ان کی آنکھوں پر ایک موٹی سیاہ پٹی باندھی گئی تھی۔
آریگونی انٹرنیشنل سالیڈیرٹی موومنٹ کے ایک رکن تھے اور کئی سالوں سے غزہ میں رہ رہے تھے۔
اس اغواء سے پہلے حماس کو غزہ سے اغواء کی وارداتیں ختم کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا تھا۔



















