افغانستان: فوجی اڈے پر حملہ، دس ہلاک

افغان فوج (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنپچھلے کچھ ماہ میں ہونے والا یہ سب سے خطرناک حملہ ہے
وقت اشاعت

حکام کے مطابق مشرقی افغانستان میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں پانچ افغان اور پانچ غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے مطابق فوجی وردی پہنے ہوئے طالبان خودکش حملہ آور نے جلال آباد میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا۔

افغانستان میں غیر ملکی فوج کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ حملے میں ان کے پانچ فوجی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دی ہیں۔ اس کے علاوہ چار افغان فوجی اور چار مترجم اس حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پچھلے کچھ ماہ میں ہونے والا یہ سب سے خطرناک حملہ ہے۔

صبح ساڑھے سات کے قریب پیش آنے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حملہ ان کے ایک ’سلیپر ایجنٹ‘ نے انجام دیا جو اس سے پہلے کم از کم ایک ماہ تک فوج میں شامل تھا۔

تاہم افغان حکام نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ حملہ آور نے فوجی وردی پہنی ہوئی تھی، وہ حاضر سروس فوجی نہیں تھا۔

حالیہ دنوں میں ہونے والا یہ تیسرا حملہ ہے جس کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی جا رہی ہے۔

پہلے حملے میں افغان صدر حامد کرزئی کے ایک قریبی قبائلی سربراہ ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد جمعہ کو ہونے والے ایسے دوسرے حملے میں قندہار کے پولیس سربراہ ہلاک ہوئے تھے۔

آج کے حملے سے پہلے والے حملے میں بھی حملہ آور نے فوجی وردی پہنی ہوئی تھی۔

حملوں کی تعداد کم کرنے کی غرض سے فوج اور پولیس کی وردیوں کی فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مگر پھر بھی یہ وردیاں ملک بھر میں بآسانی دستیاب ہیں۔