’برطانوی منصوبے سے امن قائم نہیں ہو گا‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنصرف انتخابات ہی لیبیا کے عوام کے مسائل کا حل ہیں، عبیدی
وقت اشاعت

لیبیا کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے لیبیا میں باغیوں کو مشورہ دینے کے لیے فوجی ماہرین بھیجنے کے منصوبے سے ملک میں امن قائم نہیں ہو گا۔

لیبیا کے وزیرِ خارجہ عبدل اتی الا عبیدی نے بی بی سی کو بتایا کہ باغیوں کے مضبوط گڑھ بن غازی میں برطانوی فوجی اہلکاروں کی موجودگی سے لڑائی طویل ہو جائے گی۔

مسٹر عبیدی نے تجویز پیش کی ہے کہ فریقین میں جنگ بندی ہونی چاہیے جس کے کم از کم چھ مہینے کے بعد اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی انتخابات منعقد ہوں۔

لیبیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں جنگ بندی کے بعد کرنل قذافی کے مستقبل پر بات ہو سکتی ہے۔

عبدل الا عبیدی کے مطابق بمباری کے خاتمے اور جنگ بندی کے بعد لیبیا کے عوام سے پوچھا جائے کہ وہ جمہوریت، سیاسی اصلاحات ،آئین اور انتخابات میں سے کس چیز کا انتخاب چاہتے ہیں۔

عبیدی کا کہنا ہے کہ صرف انتخابات ہی لیبیا کے عوام کے مسائل کا حل ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے کہا تھا کہ برطانیہ لیبیا میں اپنے فوجی اہلکار بھیجے گا۔

ولیم ہیگ کے مطابق برطانوی اہلکار کرنل قذافی کے مخالفین کو تربیت یا اسلحہ فراہم نہیں کریں گے بلکہ وہ باغیوں کو اپنی فوج کو منظم کرنے کے بارے میں صرف مشورے دیں گے۔

بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ اس مشن میں دس برطانوی اور دس فرانسیسی اہلکار شامل ہوں گے۔

لیبیا میں گزشتہ دو ماہ سے کرنل قذافی اور باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں موجود باغی کرنل قذافی کے بیالیس برس کے اقتدار کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

لیبیا کے ہمسائے ممالک تیونس اور مصر کے صدور کے اقتدا کے خاتمے کے بعد لیبیا میں کرنل قذافی اور اُن کے مخالفیں علاقے کا کنڑول حاصل کرنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔

لیبیا کے ساحلی شہرمصراتہ میں گزشتہ کئی ہفتوں میں سے شدید بمباری جاری ہے۔

لیبیا میں اس سال فروری میں کرنل قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی جس کے بعد سے ملک کرنل قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔