بحرین تشدد، عالمی تحقیقات کا مطالبہ

وقت اشاعت

انسانی حقوق کی تنظیموں نے بحرین میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تشدد کے واقعات کی عالمی سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فزیشنز فور ہیومن رائٹس نامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق جب سے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا ہے تب سے بتیس ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تاہم بحرین کی حکومت نے اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹروں نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی ہدف بنایا گیا ہے۔ حکومتی ترجمان نے کہا کہ حکومت تحقیقات کر رہی ہے کہ کس نے ہسپتالوں پر حملے کیے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق بحرین میں خوف کی فضا ہے۔

فزیشنز فور ہیومن رائٹس کے مطابق آدھی رات کو ڈاکٹروں کو گھروں سے نقاب پوش افراد نے اٹھایا ہے۔ حکومت نے جو سیکڑوں افراد حراست میں لیے ہیں ان میں کئی ڈاکٹر بھی ہیں اور ایک مشہور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والا کارکن بھی۔ اس کے علاوہ کئی افراد اپنی ملازمتوں سے اس لیے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کہ انہوں نے مظاہروں میں حصہ لیا۔

تنظیم کے مطابق جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں سے چار کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

دوسری جانب عالمی ریڈ کراس نے مارچ میں بحرین حکومت سے حراست میں لیے گئے افراد تک رسائی مانگی تھی لیکن ابھی تک ان کو اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔