گوانتاناموبے میں بہت بےگناہ افراد بھی تھے: وکی لیکس

وقت اشاعت

امریکی خفیہ دستاویزات شائع کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کے مطابق امریکی حکام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ گوانتاناموبے میں قید زیادہ تر افراد بے گناہ ہیں یا بہت نچلے درجے کے آپریٹو یا کارکن ہیں۔ یہ معلومات امریکہ اور برطانیہ کے اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی دستاویزات میں گوانتاناموبے میں مختلف اوقات میں قید سات سو سے زائد افراد کے متعلق لکھا گیا ہے۔ اب گوانتاناموبے میں صرف ایک سو اسی کے قریب افراد زیرِ حراست ہیں۔

وکی لیکس نے ایسے سات سو اسی قیدیوں سے متعلق تازہ خفیہ معلومات شائع کی ہیں جو خلیج گونتانامو کی جیل میں امریکی حراست میں رہے ہیں۔ان خفیہ دستیاویزات کے مطابق دو سو بیس گوانتانامو کے قیدی ایسے تھے جنہیں خطرناک دہشت گرد قرار دیا گیا۔ تاہم جیل میں پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک سو پچاس قیدی ایسے تھے جو بے گناہ تھے۔ ان قیدیوں کو تحقیقات کے دوران استغاثہ نے بے گناہ پایا۔

متعدد افراد کو بظاہر بغیر کوئی جرم سر زد کیے گوانتانامو جیل میں رکھا گیاجنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

وکی لیکس کی جانب سے شائع ہونے والی دیستاویزات کے مطابق القاعدہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے یورپ میں ایک خفیہ جوہری بم چھپایا ہے جسے اوسامہ بن لادن کے حراست میں لیے جانے یا انہیں ہلاک کرنے کی صورت میں چلایا جائے گا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کی سرکاری عمارتوں کے ایئرکنڈیشننگ سسٹم کے ذریعے سائنائیڈ پھینکنے کا بھی منصوبہ تھا اور القاعدہ نے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ورکرز کو بھرتی کرانے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔

پینٹاگون نے کہا ہے کہ دستاویزات کا افشا ہونا بدقسمتی ہے اور یہ سب معلومات اب پرانی بھی ہو سکتی ہیں۔