افغان پائلٹ کی فائرنگ، نو امریکی ہلاک

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ہلاکتوں کا سلسلہ ابھی رکا نہیں ہے
وقت اشاعت

کابل میں افغانستان کی فضائیہ کے ایک افسر نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے آٹھ امریکی فوجیوں اور ایک امریکی ٹھیکیدار کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ کو مقامی وقت کے مطابق تقریبا گیارہ بجے ایک اشتعال انگیز بحث کے بعد پیش آیا اور افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں پائلٹ بھی مارا گیا ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کی زیرِ قیادت فوج ’ایساف‘ کے ترجمان میجر ٹم جیمز نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس واقعے میں تھوڑا فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے‘۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کابل ائرپورٹ میں اس جگہ پیش آیا جسے افغان فضائیہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مرنے والے آٹھوں فوجی اور غیر ملکی ٹھیکیدار سب امریکی تھے۔

ایک سینئر افغان افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پائلٹ کا نام گل احمد تھا اور وہ کابل کے تارا خیل علاقے کا باسی تھا۔ ان کے مطابق وہ ’ذہنی طور پر بیمار‘ تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھیجےگئے ایک فیکس میں طالبان نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔لیکن حکام کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو فوجیوں اور افغان فوجیوں کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں ہلاکت کے اس سے پہلے بھی کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔تاہم یہ کسی افغان فوجی کے ہاتھوں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ نومبر میں ایک فوجی نے فائرنگ کر کے چھ امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔