دمشق سمیت کئی شہروں میں مظاہرے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
شام کے دارالحکومت دمشق سمیت کئی شہروں میں جمعہ کو حکومت مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں ہزاروں افراد شرکت کر رہے ہیں۔
مظاہروں کو روکنے کے لیے دمشق میں بڑی تعداد میں مسلح فوج اور سکیورٹی فورسز موجود ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی نماز ختم ہونے پر مظاہرین کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اطلاعات کے مطابق حمس شہر میں بھی مظاہروں ہو رہے ہیں۔
درعا میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔ ایک رہائشی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’اگر ہم گھر سے باہر نکلے تو وہ گولی چلا دیں گے۔‘
اس سے قبل شام میں حکومت مخالف مظاہرین نے جمعہ کی نماز کے بعد نئے مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان نئے مظاہروں کی حمایت اسلامی تنظیم اخوان المسلمون نے بھی کی ہے۔
ان مظاہروں کے حوالے سے عالمی برادری شام کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
نئے مظاہروں کے اعلان کے لیے سماجی ویب سائٹ فیس بک پر شام میں انقلاب 2011 کے نام سے ایک صفحہ ہے۔ اس صفحے پر پیغام دیا گیا ہے کہ ’ہم جمعہ کی نماز کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے۔ ہم سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں تمام شہروں میں جمع ہوں گے۔‘
اطلاعات کے مطابق درعا میں پچاس افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے جبکہ چند لاشیں ابھی بھی سڑکوں پر پڑی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عینی شاہدین کے مطابق پانی، بجلی اور مواصلاتی نظام بند کردیا گیا ہے۔
جمعرات کو شام میں حکومت مخالف مظاہرین پر تشدد کے خلاف احتجاج پر حکومتی جماعت بعث کے تقریباً دو سو ممبران نے جماعت کی رکنیت سے استعفے دے دیے تھے۔
جن ممبران نے استعفے دیے ان کا تعلق درعا سے ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق بعث جماعت کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین پر تشدد کیے جانے کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو رہے ہیں۔
ان استعفوں سے قبل بعث جماعت ہی کے تیس ممبران مستعفی ہو گئے تھے۔بعث جماعت 1963 سے حکومت میں ہے۔
یاد رہے کہ درعا میں سینکڑوں فوجی دستے ٹینک اور بکتربند گاڑیاں داخل ہوئی تھیں۔ درعا میں ہی سب سے پہلے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔
شہر میں ایک کارکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز چاروں سمت فائرنگ کررہی تھیں اور شہر میں بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے خاتمے کے ایک دن بعد یہ پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس تشدد کو مسلح جرائم پیشہ لوگوں کی کارروائی قرار دیا ہے۔
بی بی سی کے اوون بینٹ جونز نے بیروت سے بتایا کہ بظاہر حکومت نے امن و امان قائم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف اصلی گولیاں اوور بارود استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی طرف سے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے کھلے عام مطالبے کے حکومت کو احساس ہو گیا ہے کہ اس کی بقاء داؤ پر لگی ہوئی اور وہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔



















