کوڈاک: دیوالیہ پن کی درخواست

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دستی کیمرا ایجاد کرنے والی فوٹوگرافی کی مشہور کمپنی ایسٹمین کوڈاک نے دیوالیہ پن کی دخواست جمع کرادی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے گاہکوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے کمپنی کو بغیر مالی دباؤ کے اپنی تنظیم نو کے لیے مہلت مل جائے گی۔
کوڈاک کے چیف ایگزیکیٹیو اور چیئرمین آنتونیو پیریز نے دیوالیہ پن کے تحفظ کے لیے اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب ایک ناگزیر اقدام تھا۔
کوڈاک کا کہنا ہے کمپنی سٹی گروپ سے نو سو پچاس ملین ڈالر کریڈٹ کی سہولت طے کر چکی ہے۔
اس سے کئی روز پہلے نیو یارک سٹاک ایکسچینج نے کوڈاک کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی فی حسس کی قیمت ایک ڈالر سے زیادہ نہ ہوئی تو اس کو سٹاک ایکسچینج پر رہنے کی اجازت نہیں ملے گی۔
کوڈاک کا زوال کئی برسوں سے جاری ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں وہ ڈاؤ جونز کی سب سے کامیاب تیس امریکی کمپنیوں کی فہرست میں اپنے جگہ نہ رکھ سکی۔
کمپنی نے اس ماہ کہا تھا کہ اب اس کے توقعات پرنٹر اور سافٹ ویئر مصنوعات سے وابسطہ ہیں اور اس کی کوشش ہے کہ سنہ 2013 تک کمپنی کی کُل رقم میں تقریباً پچیس فیصد ان مصنوعات سے ملے گی۔
کوڈاک نے کمپنی کو تین کے بجائے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جن میں ایک بزنس گاہکوں یعنی کمرشل کے لیے ہے جبکہ دوسرا نجی گاہکوں یعنی کنزیومر کے لیے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیکنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ فلم اور ڈیویلپنگ کی آج کل کے زمانے میں کوئی جگہ نہیں ہے لیکن پرنٹر اِنک اور دیگر سامان میں منافع ہے تاہم اس شعبے میں اب تک کوڈاک کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور ہیولیٹ پیکارڈ، کینان اور ایپسم آگے آگے ہیں۔
یوں ڈجیٹل کیمرا کے ایجاد میں آگے ہونے والے کوڈاک کو ڈجیٹل فوٹوگرافی کے میدان میں شکست ہوئی اور فیوجی جیسے کمپنیاں کامیاب رہیں۔
سنہ دو ہزار تین کے بعد سے کوڈاک نے اپنے بارہ کارخانے بند کر دیے ہیں۔ اس وقت اس کے19 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں لیکن خیال ہے کہ کمپنی کی تنظیم نو سے ان میں سے سینکڑوں متاثر ہوسکتے ہیں۔
اپنی عروج پر یہ کمپنی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی اور اس کے 145 ہزار ملازمین تھے۔



















