سلامتی کونسل میں شام پر بحث’بےنتیجہ‘

روس نے کسی ایسی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اشارہ دیا ہے جو شام میں مداخلت کے راستے کھولے گی
،تصویر کا کیپشنروس نے کسی ایسی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اشارہ دیا ہے جو شام میں مداخلت کے راستے کھولے گی
وقت اشاعت

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں تشدد میں اضافے کے بعد صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد پر بحث بے نتیجہ رہی ہے۔

منگل کی رات گئے تک جاری رہنے والا سلامتی کونسل کا اجلاس کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔

شامی صدر کو اقتدار سے علیحدہ ہونے اور حکومت اپنے نائب کے حوالے کرنے کی تجویز عرب لیگ نے دی ہے۔

عرب لیگ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق شام کے صدر اقتدار اپنے نائب کے حوالے کر دیں تاکہ دو ماہ کے اندر ایک نئی متحدہ قومی حکومت تشکیل دی جا سکے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے مگر شام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

خلیجی ریاست قطر نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے بقول صدر اسد کی قاتل مشین کو روکنے کے لیے کارروائی کرے جو شامی عوام کا قتل عام کر رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی کہا ہے کہ اس بارے میں واضح شواہد موجود ہیں کہ اب تک شام کی سکیورٹی فورسز نے ہی ان تمام حملوں کا آغاز کیا جن میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی مگر روس کے سفیر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو یہ مینڈیٹ حاصل نہیں کہ وہ شام پر کسی سمجھوتے کی حدود نافذ کرے۔

روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور شام کا اہم حلیف ہے اور وہ کہہ چکا ہے کہ اگر شام میں کوئی غیر ملکی مداخلت ہوتی ہے تو وہاں فرقہ وارانہ تشدد اور خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔

روس نے سلامتی کونسل کی کسی ایسی قرارداد کے خلاف ویٹو کے حق کا استعمال کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے جو شام میں مداخلت کے راستے کھولے گی۔ روس کا شام میں ایک بحری اڈہ ہے اور اس کے شام کی موجودہ حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جسے وہ اسلحہ بھی سپلائی کرتا ہے۔

سلامتی کونسل میں قرارداد پرگفتگو شروع کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم شیخ حماد بن جیسم نے کہا کہ ’اب تک شام میں تشدد روکنے کی ساری کوششیں ناکام رہی ہیں اور شام کی حکومت نے ہمارے ساتھ ہوئے معاہدوں کے نفاذ کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ابھی بھی خونریزی جاری ہے اور موت کی مشین اپنا کام کر رہی ہے‘۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کارروائی کرے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ شام کے عوام کو ہی کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ شام میں حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں لیکن صدر بشار الاسد کی ’دہشت کا راج‘ ختم ہوگا۔ تاہم انہوں نے ان خدشات کو رد کر دیا کہ شام میں لیبیا کی طرز پر فوجی مداخلت کی جا سکتی ہے۔

شام کے بارے میں سفارتی سرگرمیاں اس وقت تیز ہوئی ہیں جب گزشتہ چند روز کے دوران ملک بھر میں سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حکومت مخالف گروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر عام شہری تھے، مگر ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی کیونکہ شام میں بی بی سی سمیت تمام بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیاں عائد ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے اگرچہ شام میں ہلاک ہونے والوں کے صحیح تعداد جاننا مشکل ہے تاہم اندازوں کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک 5400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔