برطانوی معیشت بھی یورو زون بحران سےمتاثر

برطانوی معیشت یوروزن بحران سے بچ کر نہیں نکل سکتی
،تصویر کا کیپشنبرطانوی معیشت یوروزن بحران سے بچ کر نہیں نکل سکتی
وقت اشاعت

کریڈٹ ریٹنگ کے لیے معروف امریکی ایجنسی موڈی نے برطانیہ کو ’منفی آؤٹ لک‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانوی معیشت اپنی ٹرپل اے کی پوزیشن گنوا سکتی ہے۔

فرانس اور آ‎سٹریا، جنہیں ٹرپل اے کا سٹیٹس حاصل ہے، ان کی بھی اسی طرح درجہ بندی کی گئی ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ نئی درجہ بندی یوروزون میں جاری معاشی بحران کے پیش نظر کی گئی ہے اور ’منفی آؤٹ لک‘ کا مطلب یہ ہے کہ موڈی ایجنسی کے خيال میں تیس فیصد اس بات کی توقع ہے کہ برطانوی معیشت آئندہ اٹھارہ ماہ کے دوران گر سکتی ہے۔

ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا ’یورو میں پیدا ہوئے بحران کے تناظر میں یوروپی یونین کے بعض ممالک کی قرض کی ریٹنگ کو اس مناسبت سے ایڈجسٹ کیا گیا ہے کہ وہ اس بحران سے کس حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

برطانوی وزیر خزانہ جارج اوزبورن نے اس کے رد عمل میں کہا ’ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں برطانیہ بھی قرضوں سے بغیر متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا ’جو بھی یہ سوچتا ہے کہ برطانیہ اپنے قرضوں کے معاملے میں بغیر مشکلات کا سامنا کیے بچ جائے گا اس کے لیے یہ حقیقت سے آنکھیں چار کرنے برابر ہے۔‘

برطانیہ کی موجودہ مخلوط حکومت پر کٹوتی کی اس کی پالیسی پر زبردست نکتہ چینی ہوتی رہی ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے اس سے بےروزگاری میں اضافہ ہوگا اور معیشت ٹھپ ہو کر رہ جائیگي۔

لیبر پارٹی میں معاشی امور کے رہنما ایڈ بازلز نے اس تبدیلی کو ’اہم تنبیہہ‘ قرار دیا ہے۔ ’ہم مستقل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ چانسلر کی ٹیکس میں اضافے اورخرچے میں بہت تیزي سے اور بہت زیادہ کٹوتی کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

لیکن اقتصادی امور سے متعلق بی بی سی کی نامہ نگار سٹیفنی فلینڈر کا کہنا ہے کہ منفی آؤٹ لوک کا مطلب ’منفی واچ‘ نہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے معیشت میں گراوٹ کے پچاس فیصد امکانات ہوتے ہیں۔

اپوزیشن حکومت کی خرچے میں کٹوتی اور ٹیکس میں اضافے کی پالیسی پر نکتہ چینی کرتی رہی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر غور نہیں کریں گی اور وہ خرچ کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہےگی۔