مصر: صدارتی انتخاب کی تاریخ میں تاخیر

مصری الیکشن کمیشن صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدگی کے ایک سال گزرنے کے باوجود صدراتی انتخات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کر رہا ہے
فروری دو ہزار گیارہ میں اٹھارہ روزہ احتجاج کے بعد تین عشروں سے اقتدار پر براجمان صدر حسنی مبارک اپنے عہدے سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ صدر مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد ملک کی فوجی کونسل نے اقتدار اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے اور وعدہ کر رکھا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کے اختتام کے بعد صدراتی انتخاب کا مرحلہ شروع ہو گا۔
توقع کی جا رہی تھی کہ مصری الیکشن پارلیمانی انتخابات کے مکمل ہونے کے بعد صدراتی انتخاب کا شیڈول جاری کرے گا لیکن الیکشن کمیشن ایسے کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
مصری الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار فاروق سلطان نے نیل ٹیلویژن چینل کو بتایا کہ صدراتی انتخاب کا مرحلہ مئی کے اختتام سے پہلے ہی مکمل ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن اہلکار نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند حضرات کو اپنے کاغذات مارچ میں جمع کرانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
الیکشن کمشن کے اہلکار نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب کی حتمی تاریخ کے اعلان میں تاخیر کی وجہ بیرون ملک مقیم مصری باشندے ہیں جنہیں حق رائے دہی سے متعلق طریقہ طے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کی سفارش پر صدارتی انتخاب کی تاریخ میں تاخیر کی گئی ہے۔
قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لیون کے مطابق توقع کی جا رہی تھی کہ الیکشن کمیشن جون میں صدارتی انتخاب کی واضح تاریخ کا اعلان کرے گا لیکن ابھی تک الیکشن کمشن شیڈول کا اعلان نہیں کر سکا ہے اور کمیشن کے اہلکار صرف ’توقع‘ کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدارتی انتخابات مئی کے اختتام تک مکمل کر لیے جائیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدارتی انتخابات کی تاریخ میں تاخیر اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ پردے کے پیچھے طاقتیں اقتدار کو عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے سے کترا رہی ہیں۔
الیکشن کمشن کے اعلان کے مطابق نیا صدر چار سال تک اپنے عہدے پر رہ سکے گا اور دو بار سے زیادہ اس عہدے پر نہیں رہ سکے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















