شام: حکومت کے حامی ٹی وی چینل پر حملہ

،تصویر کا ذریعہAP
شام کے دارالحکومت دمشق میں حکومت کے حامی ٹی وی چینل پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
شام کے خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب دمشق کے جنوب میں واقع اخباریہ ٹی وی پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’حالتِ جنگ میں ہے‘۔
اس حملے میں ٹی وی چینل کا نیوز روم تباہ ہوگیا۔ بیروت میں بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ شام میں سرکاری ٹی وی نے اپنی معمول کی نشریات روک کر دمشق سے بیس کلومیٹر دور دروشا نامی قصبے میں واقع اخباریہ ٹی وی کے صدر دفتر پر حملے کی براہِ راست کوریج کی۔
سرکاری ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں تباہ شدہ عمارت اور جلا ہوا سامان دیکھا جا سکتا تھا۔
جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد شام کے وزیرِ اطلاعات عمران الزعیبی نے بتایا کہ مسلح افراد نے تین لوگوں کو اغواء کیا، ان کے ہاتھ پاؤں باندھے اور پھر انہیں بےدردی سے قتل کر دیا۔
خیال رہے کہ پیر کو یورپی یونین نے شام کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو صدر بشار الاسد کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ادھر شام کے صدر بشارالاسد نے سولہ ماہ سے جاری حکومت مخالف عوامی تحریک کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک حالت جنگ میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے نومنتخب کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اس میں فتح کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انہوں نے مزید کہا کہ’ ملک اس وقت ہر طرح سے حالت جنگ میں ہے اور اگر آپ حالت جنگ میں ہوں تو اس صورتحال میں تمام پالیسیاں، تمام پہلووں سے اور تمام شعبوں کو یہ جنگ جیتنے کے حوالے سے ہدایت دینے کی ضرورت ہے۔‘
صدر بشار الاسد نے اقتدار سے الگ ہونے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس میں ہمیں لازمی اپنے مفادات کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کے امن قائم کرنے والے مشن کے سربراہ ہروی لیڈسوس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ شام کا تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور وہاں شہریوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام میں تشدد میں اضافے کے باعث وہاں موجود اقوام متحدہ کا مبصر مشن اپنا مشن معطل ہی رکھے گا۔
دریں اثناء شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی تحریک کے دوران یہ اب تک کی شدید جھڑپیں ہیں۔
شام میں حزب مخالف کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جھڑپیں شام کی ایلیٹ ریپبلکن گارڈز سے ہو رہی ہیں تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایلیٹ ریپبلکن گارڈز کے سربراہ شامی صدر کے چھوٹے بھائی مہر ہیں اور اس کی ذمہ داری دارالحکومت کا تحفظ کرنا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایلیٹ ریپبلکن گارڈز کے اڈوں پر حملہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ باغیوں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جھڑپوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں’دہشت گردوں‘ کو ہلاک اور کئی کو قید کر لیا گیا ہے اور ان میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک بڑی تعداد میں دہشت گردوں الحما میں داخل ہوئے تاکہ مغرب کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر قبضہ کیا جا سکے۔ ٹیلی ویژن کے مطابق شاہراہ پر کنٹرول حاصل کرنے کا مقصد مزید ہتھیار اور جنگجوؤں کو لانا تھا۔
شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی تنظیم کے مطابق منگل کو شام کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم اٹھاون افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
برطانیہ میں شامی کی صورتحال پر نظر رکھنے اس تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چوبیس شامی فوجی، تیس شہری اور چار باغی شامل ہیں۔



















