دمشق میں حماس کے رہنما ہلاک

،تصویر کا ذریعہ
فلسطین کی جماعت حماس نے کہا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم اس کے ایک رہنما کمال غناجہ کو اس کے گھر میں گھس کی قتل کر دیا گیا ہے۔
حماس نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ نامعلوم افراد نے بدھ کی رات كمال غناجہ کے گھر میں داخل ہو کر انہیں قتل کر دیا ہے۔
حماس کے کچھ اہلکارروں نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ كمال غناجہ کو اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد نے قتل کیا ہے۔
البتہ حماس نے اپنے بیان میں اسرائیل پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیق کرے گا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود براک نے فلسطینی رہنماء کی ہلاکت میں موساد کے ملوث ہونے کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ الزام صحیح ہو۔
حماس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کمال غناجہ جو نذر ابو مجاہد کے نام سے بھی جانے جاتے تھے وہ محمد المعبرو کے مشیر تھے جنہیں دو ہزار دس میں اسرائیلی ایجنٹوں نے دبئی کے ایک ہوٹل میں قتل کر دیا تھا۔
.کمال غناجہ کی موت کی خبر فیس بک پر جاری کی گئی۔
ادھر شام کی حزب اختلاف نے شامی حکومت کو کمال غناجہ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ حماس کے پولیٹکل بیورو نے شام کے صدر بشار الاسد کی اپنے عوام کے خلاف کاررائیوں کی حمایت سے انکار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حماس کے یک اہم رہنما خالد مشال پہلے ہی دمشق چھوڑ کر قطر جا چکے ہیں۔ خالد مشال کے نائب ابو مرزوک مصر میں مقیم ہیں۔



















