’صدر بشارالاسد اقتدار سے الگ ہو جائیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
قطر میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں شام کے صدر کو پیشکش کی گئی کہ انہیں خاندان سمیت شام سے نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
<link type="page"><caption> ’شام پر صدر الاسد کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/07/120719_usa_assad_syria_control_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
اجلاس میں شامی حزب اختلاف سے کہا کہ وہ ایک عبوری حکومت تشکیل دیں۔
دریں اثناء شامی صدر نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ وہ دارالحکومت دمشق اور دوسرے بڑے شہر حلب میں باغیوں کے خلاف کارروائیوں کی رفتار میں دگنی تیزی لائیں۔
شامی صدر نے فوج کے نئے سربراہ سے ملاقات میں انہیں مسلح باغیوں کو کچلنے کی ہدایت کی ہے۔
شام کے دارالحکومت دمشق میں گزشتہ ہفتے ایک مبینہ خودکش حملے میں چار اعلیٰ حکومتی عہدیدار ہلاک ہو گئے تھے۔
شامی سکیورٹی فورسز نے دمشق میں باغیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو اضلاع میزہ اور برزہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران غیر ملکی شدت پسند مارے گئے ہیں۔
اس سے پہلے باغیوں کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ حلب شہر میں فوج کے کالج پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہa
دمشق میں خفیہ طور پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال ووڈ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے دمشق میں حکومتی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔
باغیوں کے مطابق اعلیٰ اہلکاروں کی ہلاکت حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور ماضی میں خوف کی علامت سمجھی جانےوالی پولیس کی خفیہ سروس اب مفلوج ہو چکی ہے اور اس وقت حکومت کا مکمل طور پر انحصار ایک کمزور فوج پر ہے۔
اتوار کو فوج نے دارالحکومت دمشق کے ضلع باریز میں باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اسے ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل تھی۔
شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے ایک اور علاقے المزہ میں بھی فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر میں دمشق میں تباہی کے مناظر اور بڑے پیمانے پر لاشوں کو دکھایا گیا ہے جنہیں لڑائی میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی لاشیں بتایا گیا ہے۔
غالب خیال ہے کہ یہ کارروائی شامی فوج کے چوتھے ڈویژن نے کی ہے جس کی قیادت صدر بشارالاسد کے بھائی ماہر الاسد کے پاس ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
حلب میں اتوار کو مسلسل تیسرے دن لڑائی جاری رہی جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایک عمارت ٹینکوں کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں زمین بوس ہو گئی۔
دمشق سے بی بی سی کے جم میور کے مطابق حکومتی فوجیں باغیوں کو دمشق شہر سے بڑے منظم طریقے سے نکال باہر کرنے کا آپریشن شروع کر رہی ہیں۔
برطانیہ میں قائم شام کے انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ مارچ دو ہزار گیارہ سے اب تک شام میں انیس ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں کم سے کم دس ہزار افراد ہلاک ہو ئے، جبکہ جون میں شامی حکومت کے مطابق چھ ہزار نو سو سے زائد لوگ مارے گئے جن میں کم سے کم تین ہزار سے زائد عام شہری اور ڈھائی ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تھے۔
شام میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ایک ایسے وقت شروع ہوئی ہیں جب ایک دن پہلے ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاقِ رائے سے شام میں اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن میں ایک ماہ کی توسیع کر دی تھی۔



















