ملکۂ حسن بننے کے لیے کچھ اور بھی چاہیے

،تصویر کا ذریعہ
سانڈرا سیفرٹ دراز قد ہیں۔ خوبصورت، ذہین اور خوش گفتار بھی، لیکن انھیں بھی فلپائن میں مقابلہ حسن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے میں خاصا وقت لگا۔
’جب مجھے مقابلہ حسن میں حصہ لینے کی پیشکش ہوئی تو میری عمر ابھی اتنی زیادہ نہیں تھی، لیکن سچ پوچھیں تو مجھے کبھی بھی یہ یقین نہیں آیا کہ میں اس کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔‘ یہ اُس سانڈرا سیفرٹ کا کہنا ہے کہ جس نے نہ صرف 14 سال کی عمر میں ماڈلنگ شروع کر دی تھی بلکہ تھوڑے ہی عرصے بعد ٹی وی پروگرام کی میزبانی بھی شروع کر دی تھی۔
سانڈرا کے لیے فیصلے کی گھڑی آخر کار سنہ 2009 میں اس وقت آئی جب وہ نیویارک میں اپنی نرسنگ کی تعلیم مکمل کر چکی تھیں۔ اس وقت وہ 25 برس کی ہو چکی تھیں، یعنی کسی مقابلہ حسن میں حصہ لینے کے لیے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔
پھر ہوا یہ کہ مِس سیفرٹ نے ایک ماہ سے زیادہ ایک ’بیوٹی کیمپ‘ میں گزارا اور اپنی نظریں حسینۂ عالم کے مقابلے میں فلپائن کی نمائندگی پرگاڑھ دیں۔ لیکن شاید اب بھی یہ ان کی نصیب میں نہیں تھا کیونکہ مقابلے سے چند دن قبل مردوں کے ایک رسالے میں تیراکی کے لباس میں ان کی تصاویر کی اشاعت کی وجہ سے مقابلۂ حسن کے منتظمین نے انھیں مقابلے سے باہر کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہ
لیکن سانڈرا نے ہمت نہ ہاری اور اگلے چند ہی ہفتوں میں فلپائن میں ہونے والے قومی مقابلۂ حسن میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔
نہ صرف سانڈرا نے مِس ارتھ کا ٹائٹل جیتا بلکہ جلد ہی انھوں نے بین الاقوامی مقابلۂ حسن میں بھی حصہ لیا، جہاں وہ دنیا بھر سے شریک 80 حسیناؤں میں دوسرے نمبر پر آئیں۔
ملکۂ حسن کی خالق
فلپائن میں حسن کے مقابلے نئی بات نہیں، بلکہ یہ اس وقت سے مقبول ہیں جب امریکی نو آبادیاتی حکومت نے بیسویں صدی میں اس قسم کے مقابلے یہاں متعارف کرائے۔ یہ بات ہمیں منیلا میں ملک کی بڑی یونیورسٹی کے ایک استاد ہوزے ونڈل کپیلی نے بتائی۔
حقوق نسواں کی تنظیموں کی طرف سے اگر کوئی احتجاج ہے تو وہ بھی زیادہ بلند آواز میں نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حالیہ برسوں میں فلپائنی حسیناؤں کی بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابیوں کے بعد ملک میں یہ شوق مزید بڑھ گیا ہے۔ مسٹر کپیلی کا کہنا ہے کہ ان کامیابیوں کا ایک دوسرا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حسیناؤں میں مسابقت کا جذبہ بھی بہت بڑھ گیا ہے:
’وہ دن گئے جب ایک غیر تربیت یافتہ لڑکی بھی اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے یا اس بنیاد پر کہ اس کا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جہاں اسے اپنی خوبصورتی کی دیکھ بھال کرنے کی سہولت موجود تھی، یہ مقابلہ جیت سکتی تھی۔
’آج کل تو جوہر شناسوں اور ماڈلنگ کی ایجنسیوں کا زمانہ ہے۔ یہ لوگ لڑکیوں کو بین الاقوامی مقابلوں سے کئی مہینوں، بلکہ برسوں پہلے تربیت دینا شروع کرتے ہیں۔‘
فلپائن کے سب سے کامیاب بیوٹی کیمپوں میں ایک کا نام مرکیٹر ہے جس کے سربراہ جونس گفّڈ ہیں۔ گفّڈ اور ان کی ٹیم ہر سال کم و بیش دس امیدوار میدان میں اتارتی ہے۔ اس کمپنی سے منسلک تربیت دینے والے خواتین و حضرات بلامعاوضہ کام کرتے ہیں اور ان کی تربیت دی ہوئی حسینائیں قومی مقابلوں میں سرِفہرست رہتی ہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں خوب نام کماتی ہیں۔ سنہ 2013 میں فلپائن سے تعلق رکھنے والی پہلی مِس ورلڈ میگن ینگ مسٹر گفّڈ کی کمپنی کی تربیت یافتہ تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
مسٹرگفّڈ کا کہنا ہے کہ ان کی کپمنی جو جوہر تلاش کرتی ہے اس میں سب سے اہم یہ ہوتا ہے کہ امیدوار کا قد کم از کم پانچ فٹ پانچ انچ ضرور ہو اور خوش شکل ضرور ہو۔ تاہم یہ کافی نہیں، بلکہ تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے اور کسی بھی مقابلے سے چھ ماہ پہلے امیدوار کو تربیت شروع کر دینی چاہیے۔ حسینہ کو اپنے نصب العین کے بارے میں پڑھنا پڑتا ہے، سٹیج پر چلنا کیسے ہے، اپنے بال کیسے بنانے ہیں، میک اپ کیسے کرنا ہے، خود کو سڈول رکھنے کے لیے ورزش کرنا اور پھر یہ کہ سوالوں کے جواب کیسے دینے ہیں، یہ سب کچھ تربیت کا حصہ ہوتا ہے۔
ایک دوسرے بیوٹی کیمپ سے تربیت یافتہ مِس سیفرٹ کا کہنا ہے کہ ورزش کے گھنٹے خاصے کٹھن ہوتے ہیں: ’آپ کو کئی قسم کی ورزشیں کرنا پڑتی ہیں، سر سے لے کر پاؤں تک۔ اس میں گردن گھمانا اور کمر کی بہت سخت ورزشیں شامل تھیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ایک خاص ورزش کا نام ’بطخ کی چال‘ ہے جس میں آئینوں سے بنے ایک ڈانس سٹوڈیو میں آپ کو تیراکی کے لباس میں ایک دائرے میں چلنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ’تصور کریں کہ آپ نے اونچی ایڑھی کی جوتیاں پہنی ہوں، آپ کے سر پر کتابیں رکھی ہیں اور آپ ورزش کر رہے ہوں اور اگر کوئی کتاب گر جائے تو آپ دوبارہ ساری ورزش کریں۔‘
گلیمر کے ساتھ ذمہ داریاں
اپنے تجربات کی روشنی میں سانڈرا سیفرٹ کا مزید کہنا ہے کہ ملکۂ حسن بن جانا کوئی گلیمر کی بات نہیں ہوتی: ’بلکہ جب مجھے تاج پہنایا گیا تو اصل محنت کا دور تو پھر شروع ہوا۔‘
چونکہ مِس سیفرٹ کا نصب العین ماحولیات اور ماحولیاتی آلودگی کے بارے مہم چلانا تھا، اس لیے مِس ارتھ کے عالمی مقابلے میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد انھیں ماحولیات کے بارے میں ہونے والی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینا تھا: ’بڑی عوامی شخصیت بن جانے کے بعد میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں بچیوں کے لیے ایک اچھی مثال قائم کروں۔‘
مقابلۂ حسن جیتنے والی خواتین کو فلپائن میں بہت اہم شخصیات کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس ٹائٹل کے ساتھ ساتھ ان پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں۔



















