’خواتین قیدیوں کو بے جا حراست اور جنسی استحصال کا سامنا ہے‘

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق عراقی جیلوں میں اس وقت 4500 خواتین قید ہیں
،تصویر کا کیپشنہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق عراقی جیلوں میں اس وقت 4500 خواتین قید ہیں
وقت اشاعت

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ عراق میں سکیورٹی حکام ہزاروں خواتین کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی اور ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کئی خواتین کو فردِ جرم عائد کیے بغیر کئی ماہ تک اور کچھ واقعات میں تو کئی سالوں تک زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اکثر ان کے کسی جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں نہیں بلکہ ان کے خاندان میں مردوں کی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کرتے تھے۔

عراقی حکومت نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش گیا ہے تاہم حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چند خواتین قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا ہے۔

عراقی وزارتِ انسانی حقوق کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ عراق میں کچھ مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے خواتین قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات ہوئے ہیں تاہم ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عراقی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ زیادتیوں کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان زیادتیوں کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق عراقی جیلوں میں اس وقت 4500 خواتین قید ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر خواتین سنی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں تاہم رپورٹ کا کہنا ہے کہ تمام مسلک کی خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے لیے انٹرویو کی گئی بہت سی خواتین نے بتایا کہ انہیں دورانِ تفتیش مارا گیا، لاتیں اور تھپڑ مارےگئے، الٹا لٹکایا گیا، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے، جنسی زیادتی کی گئی یا اس کی دھمکی دی گئی۔

جنسی تشدد اس قدر عمومی بات ہوگئی ہے کہ خواتین کے جیل کی ایک ملازمہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ انہیں جیل لاتے ہوئے پولیس والوں نے ریپ کیا ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی قوانین کے برعکس زیادہ تر خواتین کو تفتیش سے پہلے یا دوران اپنے وکلا سے ملنے نہیں دیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جو سٹورک کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی حکام کا رویہ ایسا ہے جیسے خواتین کے ساتھ ظالمانہ بدسلوکی سے ملک زیادہ محفوظ ہو جائے گا۔

2012 میں عراق میں سنی افراد نے مظاہرے کیے تھے کہ شیعہ افراد کی موجودہ حکومت ان تمام خواتین کو رہا کرے جن پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور انہیں اس لیے حراست میں رکھا گیا ہے کیونکہ ان کے خاندان کے کوئی مرد دہشتگردی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ عراق میں گذشتہ ایک سال کے دوران فرقہ وارانہ فسادات میں شدید تیزی دیکھی گئی ہے۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف جنوری کے مہینے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ گذشتہ چھ سالوں میں کسی ایک ماہ میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔