ٹیمز میں پانی کی سطح میں اضافہ، ہزاروں گھروں کو خطرہ

،تصویر کا ذریعہReuters
لندن کے ٹیمز دریا کے کنارے واقع ہزاروں گھروں کو دریا کی بڑھتی ہوئی پانی کی سطح سے خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
برکشائر اور سرے کی کاونٹیوں میں سیلاب کی چودہ وراننگ جاری ہو چکی ہیں جبکہ سمرسیٹ میں خطرے کی وارنگ دی گئی ہیں۔
سیلاب سے نمٹنے کے نامناسب اقدامات پر ماحولیات کی ایجنسی کے سربراہ لارڈ سمتھ پر زبردست تنقید کی جا رہی ہے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ یہ وقت تبدیلیوں کا نہیں ہے۔
برطانیہ کے درالعوام میں حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کی طرف سے سیلاب کے بارے میں ایک سوال جمع کرایا گیا ہے جس کا جواب ماحولیات کے وزیر کو دینا ہو گا۔
وزیر اعظم کیمرون نے کہا ہے کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت کو جو کچھ کرنا چاہیے وہ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے تاکہ اس مشکل وقت میں لوگوں کی مدد کی جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ بعد میں دوسری چیزوں پر بات ہوتی رہے گی لیکن اسوقت ہر ایک کو جو مشکل پڑی ہے اس پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
کیمرون کا بیان شدید سیاسی تنازع کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
قبل ازیں لارڈ سمتھ نے کہا کہ ان کا عملہ سیاست دانوں سے سو فیصد زیادہ سیلاب کے بارے میں جانتا ہے لیکن وہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے ایک مرتبہ پھر مستعفیٰ نہ ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔ کمیونٹیز کے وزیر ایرک پکل نے کہا تھا کہ ماحولیات کے ادارے کی طرف سے دریاؤں کی بھل صفائی کے بارے صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
برکشائر میں دس ہزار ریت کی بوریاں تقسیم کی گئیں ہیں تاکہ سیلابی ریلے کو روکا جا سکے۔
دریں اثناء ماحولیات کے وزیر اون پیٹرسن اور ایرک پکل کے درمیان ماحولیات کے ادارے کی کارکردگی پر شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔
وزیر اعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤئنگ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کی تردید نہیں کی گئی کہ اون پیٹرسن نے اپنے ساتھی کی شکایت کی ہے۔ اون پیٹرسن ، ایریک پکل کے آنکھ کے آپریشن کی وجہ سے ماحولیات کی وزارتِ کے امور دیکھ رہے ہیں۔



















