حکام ملزم کو جیل بھیجنا بھول گئے

اینڈرسن کی رہائی کے لیے آئن لائن پٹیشن دائر کی گئی جس پر 35 ہزار افراد نے دستخط کیے
،تصویر کا کیپشناینڈرسن کی رہائی کے لیے آئن لائن پٹیشن دائر کی گئی جس پر 35 ہزار افراد نے دستخط کیے
وقت اشاعت

امریکہ میں ایک شخص کو 13 سال قید کی سزا ہوئی لیکن حکام اسے جیل بھیجنا بھول گئے۔

حکام کو تقریباً 13 سال کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے گذشتہ سال جولائی میں کونیلسن اینڈرسن کو جیل بھیج دیا۔

تاہم اب انھیں دس ماہ کی قید کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

کونیلسن اینڈرسن نے کہا کہ اس عرصے کے دوران انھوں نے اپنی شناخت نہیں چھپائی بلکہ انتظامیہ کو یاد بھی کرایا کہ انھیں جیل میں ہونا چاہیے۔

پیر کو جج ٹیری لی براؤن نے کونیلسن اینڈرسن کے رویے کی تعریف کی اور ان کی رہائی کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا: ’تم ایک اچھے باپ ہو، ایک اچھے شوہر رہے اور ریاست مزوری کو ٹیکس ادا کرنے والے اچھے شہری ہو۔ اس سے مجھے یقین ہے کہ تم ایک اچھے آدمی اور بدلے ہوئے انسان ہو۔‘

عدالت نے کونیلس اینڈرسن کو 2000 میں مسلح ڈکیتی کے جرم میں 13 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اس کے بعد انھیں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ حکم نامے کا انتظار کریں کہ انھیں کس جیل جانا ہے، لیکن دفتری غلطی کی وجہ سے 13 سال تک ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہو سکا۔

اینڈرسن نے دو بار شادی کی اور ان کے تین بچے ہیں
،تصویر کا کیپشناینڈرسن نے دو بار شادی کی اور ان کے تین بچے ہیں

اس دوران کونیلسن اینڈرسن نے اپنا کاروبار شروع کیا، دو بار شادی کی اور تین بچوں کے باپ بنے۔ اس کے علاوہ وہ ایک چرچ اور ایک فٹبال کلب میں رضاکار کے طور پر کام کرتے ہیں۔

تاہم گذشتہ سال جولائی میں جب ان کی سزا ختم ہونے کے قریب تھی تو غلطیوں کی تصحیح کرنے والے محکمے کو غلطی کا اندازہ ہوا۔

اس کے بعد پولیس سیدھے اینڈرسن کے گھر گئی اور انھیں پیشگی اطلاع دیے بغیر جیل بھیج دیا۔

اس کے بعد اینڈرسن کی رہائی کے لیے آئن لائن پٹیشن دائر کی گئی جس پر 35 ہزار افراد نے دستخط کیے۔