ترکی:301 لاشیں برآمد، امدادی آپریشن ختم

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی میں سوما کے علاقے میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ حکام نے امدادی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ حادثہ دھماکے کے بعد کان بیٹھنے کی وجہ سے پیش آیا تھا اور سنیچر کو متاثرہ کان سے مزید دو لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد 301 ہوگئی ہے۔
یہ ترکی میں کان کنی کی تاریخ کا بدترین اور سنگین ترین حادثہ ہے۔
امدادی سرگرمیوں سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ اب کان میں مزید کسی فرد کی موجودگی کا امکان نہیں ہے۔
ترکی کے وزیر برائے توانائی تانر یلدیز کا کہنا ہے کہ امدادی آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے اور اب کوئی بھی کان کن زیرِ زمین دبا ہوا نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سوما میں اس حادثے کے خلاف سنیچر کو بھی احتجاج ہوا ہے اور پولیس نے 30 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سوما کے قریب پولیس اور احتجاجیوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے جن افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں سے کئی وکلا ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان گاڑیوں کو سوما میں داخل ہونے سے روک رہی تھی جن میں احتجاج کے لیے آنے والے لوگ اور وہ وکلا سوار تھے جن کا تعلق حزب اختلاف کی تحریک سے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کان میں یہ حادثہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب ایک دھماکے کے نتیجے میں کاربن مونو آکسائڈ گیس اُس سرنگ میں بھر گئی جس میں 787 لوگ کام کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سوما میں اس کان کو چلانے والے کسی بھی طرح کوتاہی کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کان میں نامعلوم وجوہ کی پر غیرمعمولی حدت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے کان بیٹھ گئی۔
ترکی میں حکومت کے خلاف گذشتہ چار روز کے دوران ملک بھر میں کئی احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔
ان مظاہروں میں وزیراعظم رجب طیب اردگان کو ہلاکتوں پر بے حسی کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے لوگ سوما جا رہے ہیں تا کہ مرنے والوں کے عزیزوں سے تعزیت کر سکیں لیکن گورنر نے پابندیاں لگا دی ہیں اور سوما داخلے کے راستوں پر نگراں چوکیاں بنا دی گئی ہیں۔



















