برمنگھم کے سکولوں کو نشانہ بنایا گیا: آفسٹیڈ

آفسٹیڈ کاکہنا ہے کہ 12 سکولوں کو مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے
،تصویر کا کیپشنآفسٹیڈ کاکہنا ہے کہ 12 سکولوں کو مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے
وقت اشاعت

برطانیہ میں سکولوں کے نگراں ادارے آفسٹیڈ نے تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ میں برمنگھم کے پانچ سکولوں کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی سفارشات پیش کی ہیں۔

آفسٹیڈ کے سربراہ مائیکل ولشا کے مطابق تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ برمنگھم کے کچھ سکولوں میں ’تنگ نظر مذہبی عقائد کے نفاذ کے لیے باقاعدہ مہم‘ چلائی گئی تھی۔

ان سکولوں میں نہ صرف دیگر مزاہب کے بچوں سے امتیازی سلوک اختیار کیا جاتا رہا بلکہ لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت بھی دی جاتی رہی۔

رپورٹ کے مطابق ان سکولوں میں وہی سٹاف بھرتی کیا جاتا جو ان تنگ نظر مذہبی عقاید سے متفق ہوتا۔

آفسٹیڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ’باقاعدہ مہم کے ذریعے مخصوص سکولوں کو نشانہ بنائے جانے کے ثبوت‘ ملے ہیں۔

دوسری جانب پارک ویو نامی سکول کی انتظامیہ نے آفسٹیڈ کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

آفسٹیڈ نے21 سکولوں کے بارے میں تحقیقات کیں جن کے بارے میں ایک ’گمنام خط‘ میں دعوی کیا گیا تھا کہ سخت گیر مسلمان برمنگھم کے سکولوں میں اپنے نظریات نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

آفسٹیڈ کے سربراہ مائیکل ولشا نے کہا ’ ہماری تحقیقات پریشان کن اور ششدر کرنے والی ہیں۔‘

آفسٹیڈ کاکہنا ہے کہ 12 سکولوں کو مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے جبکہ تین ایسے سکول بھی سامنے آئے ہیں جن کی تنقید کی بجائے تعریف کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں سکولوں کے معاملات کی نگرانی کرنے والی تنظیم آفسٹیڈ کی افشا ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برمنگھم کے ایک سکول میں بچوں کو شدت پسند خیالات سے بچانے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔

سپارک ہل میں واقع گولڈن ہلوک نامی اس سکول کا نام ’ٹروجن ہارس‘ انکوائری میں بھی آیا ہے اور معائنہ کاروں نے وہاں کی صورت حال کو ناکافی قرار دیا ہے۔

برطانوی محکمۂ تعلیم نے ’ٹروجن ہارس‘ انکوائری کے تحت برمنگھم کے 21 سکولوں کے معائنے ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد شروع کیے تھے کہ سخت گیر خیالات کے حامی مسلمان شہر کے سکولوں پر غلبہ پا رہے ہیں۔

آفسٹیڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی سکولوں میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں اور انتظامیہ کو اس سلسلے میں ابھی مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ان تحقیقات نے برطانوی کابینہ کے وزرا میں سکولوں میں شدت پسندی سے نمٹنے کے موضوع پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ حکومت بچوں کو شدت پسندی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔