ستر کی دہائی کے ’انتشار پسند‘ سکول

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سنہ 1970 کی دہائی میں تصوراتی دنیا میں رہنے والے متوالے نوجوانوں نے بہت سے تجرباتی سکول بنائے تھے جہاں نہ کوئی لازمی لیکچر ہوتا تھا، نہ ٹائم ٹیبل اور نہ ہی کوئی قوانین۔ سو ان بچوں کا کیا بنا جنھوں نے اس طرح کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔
ہوا یوں کہ 1971 میں ملکہ برطانیہ نے لیورپول اور ولاسے کو جوڑنے کے لیے ایک سرنگ کا افتتاح کیا۔
اس منصوبے سے لیورپول کا جغرافیہ بدل گیا اور وہاں کے ایک علاقے سے گزرنے والی سکاٹ لینڈ روڈ پر اتنی ٹریفک ہو گئی کہ وہ بالکل موٹروے کی طرح بن گئی۔ آہستہ آہستہ وہاں سے رہائشی جانے لگے۔ اس ترقی کی وجہ سے ’سکاٹی روڈ‘ کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ یہاں کسی زمانے میں کافی گہما گہمی ہوا کرتی تھی۔
اس سارے پس منظر میں مقامی اساتذہ جان اورڈ اور مل مرفی نے ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے ایک ایسا سکول بنانے کا فیصلہ کیا جس کا کوئی پرنسپل نہیں ہو گا، کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ کسی مرکزی اتھارٹی کا تسلیم شدہ ہو گا بلکہ اسے والدین، بچے اور اساتذہ کنٹرول کریں گے۔
اس کے لیے فوراً ایک عمارت تلاش کی گئی اور ایک دکان کے اوپر ایک دفتر بنایا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس میں 30 بچے آ گئے۔ اساتذہ کو یہاں ہیلپرز یا مددگار کہا جاتا تھا۔ سکول کی عمارت کئی مرتبہ بدلی گئی کیونکہ بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان دنوں کی بی بی سی کی طرف سے بنائی گئی ایک فلم میں لمبے بالوں والے اورڈ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’یہ سکول بنیادی طور پر ورکنگ کلاس کے لیے ہے، یہ کوئی مڈل کلاس سکول نہیں ہے اور نہ ہی کوشش کرتا ہے کہ مڈل کلاس کی اقدار بچوں پر تھوپی جائیں۔‘
موٹی اور لمبی قلموں والے مرفی کہتے ہیں کہ ’بچوں سے کھودنے، تعمیر کرنے، تجربہ کرنے اور دیکھنے کا حق چھین لیا گیا تھا۔ فری سکول قدرت سے ان کا تعلق واپس جوڑ دے گا۔‘
آج کل ہم فری سکولوں کا تعلق سابق سیکریٹری تعلیم مائیکل گو سے جوڑتے ہیں۔ والدین اگر سمجھیں کہ ریاست ان کے علاقے میں کوئی اچھی سہولت فراہم نہیں کر رہی تو وہ فری سکول بنا سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بات پر بہت عرصے سے بحث ہو رہی ہے کہ کیا یہ بااختیار بنانے والی یا تباہی پھیلانے والی ایجاد تھی۔ لیکن یہ بھی اس پر منحصر ہے کہ آپ کس طرح سوچتے ہیں۔ یہ سکول کونسل کے اختیار میں نہیں، وائٹ ہال انھیں فنڈ دیتا ہے اور ان پر ملکی نصاب بھی لاگو نہیں ہوتا۔ لیکن یہ پھر بھی برطانیہ کے پہلے فری سکول نہیں تھے۔
ناٹنگ ہل میں لندن فری سکول 1966 میں بنا تھا۔ اس کے بعد وہ برسٹل، برمنگھم، گلاسگو، مانچسٹر، لیڈز، ناٹنگھم اور برائٹن میں بھی بنا دیے گئے۔ لیور پول میں دو جبکہ لندن میں چار فری سکول تھے۔
آج کل کی دنیا میں یہ شاید ’انارکی‘ یا انتشار کی ہی ایک قسم لگے۔
کوئی ٹائم ٹیبل نہیں، کوئی لازمی سبق نہیں، کوئی یونیفارم نہیں اور نہ ہی کوئی تنظیمی ڈھانچہ۔ اساتذہ کو ان کے پہلے نام سے پکارا جاتا۔ بچے اصول بناتے اور وہی بتاتے کہ انھیں کیا پڑھنا ہے۔
ان سکولوں کی کوئی فیس نہیں تھی، کوئی مخصوص اوقات نہیں تھے اور نہ ہی مخصوص ٹرم اور چھٹیاں۔
جلد ہی ان میں سے کئی بند ہو گئے کیونکہ کمیونٹی تعلیم میں انارکی کے خیال کو نہ سمو سکی۔ لیکن کچھ نے بہت مضبوط جڑیں بھی پکڑ لیں۔
آج کل اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ بچے پیپروں کے نتائج حاصل کیے بغیر سکول چھوڑ دیں۔ اب اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ اچھے سکولوں سے اچھے نتائج آئیں گے، چاہے وہ ترقی سے محروم علاقوں میں ہی ہوں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سب سے پہلے بنائے گئے فری سکولوں میں سے ایک آج تک قائم ہے۔ بس ایک تبدیلی ہے کہ اب وہ فری نہیں ہے۔
برمنگھم کی بال سال سٹیٹ پر قائم اس سکول کو آج کل سینٹ پال کہتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈک جنھوں نے اس کی تعمیر میں مدد کی تھی، کہتے ہیں کہ ’ہم نے ضرور سوچا تھا کہ کیا قوانین میں زیادہ لچک پیدا کی جا سکتی ہے اور کئی جگہ اصول ہی نہ ہوں۔ لیکن ہمیں جلد ہی سمجھ آ گیا کہ کئی نوجوان ایسے بھی تھے کہ انھیں کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کیونکہ کوئی قوانین ہی موجود نہیں تھے۔‘
انیتا ہالیڈے نے 1973 میں اس سکول کا انتظام سنبھالا اور وہ اب بھی کی منتظم ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شروع شروع میں تو ’سبھی قسم کے ریڈیکل طریقے آزمائے گئے۔‘ لیکن جلد ہی انھوں نے اس بات پر بچوں سے مشورہ کرنا چھوڑ دیا کہ انھیں ہر دن کیا پڑھنا ہے۔ ایک ٹائم ٹیبل بنایا گیا، ایک نصاب پر عمل درآمد شروع ہوا، اور ایک تنظیمی ڈھانچہ لاگو کیا گیا۔ آج کل اسے سرکار کی طرف سے فنڈنگ ملتی ہے اور اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر طرح کے بچوں کو تعلیم مہیا کر سکتا ہے۔
یہ سکول قائم بھی رہا اور کامیاب بھی۔ اگرچہ اس نے تھوڑے عرصے کے لیے 70 کی دہائی کے فری سکولوں کی آزادی پسند اقدار کی پیروی ضرور کی تھی۔



















