پاکستانی امور کی ماہر رابن رافیل کے خلاف تحقیقات کا آغاز

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں اطلاعات کے مطابق تجربہ کار سفارت کار اور پاکستانی امور کی ماہر رابن رافیل کے خلاف وفاقی سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ رابن فیل کے خلاف کاؤنٹر انٹیلی جنس یا جاسوسی سے متعلق تحقیقات ہو رہی ہیں اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس یا خطرے سے پاک حیثیت کو واپس لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے گذشتہ مہینے شمالی واشنگٹن میں رابن رافیل کے گھر کی تلاشی لی تھی جبکہ امریکی محکمۂ خارجہ میں ان کے دفتر کا بھی معائنہ کیا تھا۔
واشنگٹن کی سفارتی اور ماہرین کے حلقوں میں اہم مقام رکھنے والی رافیل کو گذشتہ مہینے انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا تھا اور گذشتہ ہفتے محکمۂ خارجہ نے ان کے نوکری کے معاہدے کی تجدید نہیں کی۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کو بتایا کہ ’ہم اس قانونی کارروائی سے باخبر ہیں۔‘
دو امریکی اہلکاروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ رافیل کے خلاف تحقیقات کاؤنٹر انٹیلی جنس یا جاسوسی کرنے سے متعلق ہے جس میں عام طور پر بیرونی ممالک کے لیے جاسوسی کرنا شامل ہوتا ہے۔
تاہم رابن رافیل کے خلاف ہونے والی تحقیقات کی صحیح نوعیت کے بارے میں ابھی تک واضح نہیں ہو سکا اور نہ ہی ان پر کوئی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
رافیل کے ایک ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں لیکن ابھی تک انھیں ’تحقیقات کی نوعیت کے بارے میں نہیں بتایا گیا اور نہ بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی تحقیقات ہو رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی سطح پر ہونے والی کاؤنٹر انٹیلی جنس کی تحقیقات بہت خفیہ طریقے سے کی جاتی ہیں اور اس میں سالہا سال لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ رابن رافیل نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا زیادہ تر وقت پاکستانی امور پر گزارا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان کے خلاف ایف بی آئی کی تحقیقات ان کے کام یا پاکستان سے متعلق ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ تکنیکی طور پر رافیل کی مدت ملازمت دو نومبر کو ختم ہو گئی تھی لیکن ان کی کلیئرنس اکتوبر ہی میں واپس لے لی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم اس معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ رافیل کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی اور وہ اب محکمہ خارجہ کی ملازم نہیں رہیں۔‘
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق رافیل تیونس میں امریکی سفیر رہنے کے علاوہ کلنٹن انتظامیہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیا رہ چکی ہیں۔
رابن رافیل 30 سالہ سفارت کاری سے 2005 میں ریٹائر ہو گئی تھیں لیکن ان کو 2009 میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے کنٹریکٹر کی حیثیت سے نوکری دی تھی۔
دو سال اسلام آباد میں رہنے کے بعد وہ واشنگٹن چلی گئیں جہاں وہ دو نومبر تک پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی کے دفتر میں کام کرتی رہیں۔
خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ رافیل کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں ملازمت دینے پر کئی لوگوں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دفترِ خارجہ میں 30 سال نوکری کرنے کے فوری بعد انھوں نے کیسیڈی اینڈ ایسوسی ایٹس میں شمولیت اختیار کی جو پاکستان کے لیے لابی کرنے کا کام کرتی ہے۔
رابن رافیل کے پاکستان کے ساتھ پرانے مراسم ہیں کیونکہ ان کے شوہر آرنلڈ رافیل اسلام آباد میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ آرنلڈ وہ امریکی سفیر ہیں جو 1988 میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے ساتھ اس جہاز پر سوار تھے جو تباہ ہو گیا تھا۔



















