یونان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں

،تصویر کا ذریعہAFP
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں چھ سال پہلے پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے غیر مسلح نوعمر لڑکے کی برسی کے موقع پر ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
سنیچر کو کم سے کم 5000 مظاہرین نے ایتھنز میں مارچ کیا جن میں بعض نے دوکانوں پر حملہ اور پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن یا پانی کے توپ خانے اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ تقربیاً 100 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مظاہرین 15 سالہ ایلیکس گریگوروپولس کی یاد میں جمع تھے جنھیں ایک پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔وہ پولیس اہلکار اس وقت سے جیل میں ہے۔
ایلیکس چھ دسمتر سنہ 2008 کو ہلاک کیے گئے جس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی اور دوکانوں کو لوٹا گیا تھا۔
ماضی میں بھی ایلیکس کی برسی کے موقع پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔
سنیچر کو ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران مظاہرین نے بینکوں پر حملے کیے، دوکانوں اور بس سٹاپس کو نقصان پہنچایا۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک موقع پر مظاہرین نے کپڑوں کے ایک دوکان کو لوٹا اور مال کو گلی میں آگ لگا دی۔
جھڑپوں میں کسی کے زخمی ہونے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین نے ایلیکس کے دوست نیکوس رومانوس کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ ایلیکس کی موت نیکوس رومانوس کے سامنے ہوئی تھی۔
21 سالہ رومانوس بینک پر ڈھاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے کے جرم میں جیل کی سزا کاٹ کر رہے ہیں۔ وہ آج کل بھوک ہڑتال پر ہیں اور یونیورسٹی میں ایک کورس میں داخلہ ملنے کے بعد مطالعے کے لیے چھٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔



















