یوگینڈا میں دلھن کی قیمت واپس کرنا اب غیر قانونی

افریقی ملک یوگینڈا کی سپریم کورٹ نے ملک میں اس روایت کو غیر آئینی قرار دیا ہے جس میں شادی ختم ہونے کے بعد دلھن کو شادی کے موقعے پر ادا کی جانے والی رقم واپس کرنا ہوتی ہے۔
ججوں کا کہنا ہے کہ اس روایت سے لگتا ہے کہ خواتین بازار میں دستیاب ہیں اور اس سے ان کے طلاق لینے کے حق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔
عدالت کے مطابق ملک میں اس رویت پر پابندی ہونی چاہیے۔
تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کیا ہے کہ دلھن کی قیمت بذات خود غیر آئینی ہے۔
ججوں کی اکثریت نے دلھن کی قیمت کی روایت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے نزدیک تجارتی لین دین نہیں ہے۔
سات میں سے چھ ججوں نے کہا ہے کہ دلھن کی قیمت کا گھریلو تشدد سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’دلھن کی قیمت‘ کا جملہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ عورت کو خریدا جا رہا ہے۔
ججوں میں سے صرف ایج جج جسٹس ایسٹر کیسیاکے نے باقی ججوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کا آئین ثقافت کے فروغ کے حق میں ہے اور صرف ان روایات کی توثیق کرتا ہے جو تمام شہریوں کے حقوق کا احترام کرتی ہیں۔‘
حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق اس روایت کی وجہ سے خاتون دولھے کی جائیداد بن جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوگینڈا میں شادی ختم ہونے کے بعد دلھن کو شادی کی موقعے پر کی گئی رقم واپس کرنا ہوتی ہے اور یہ اکثر مال مویشیوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کو ملک میں خواتین کے لیے نقصان دہ روایات کو ختم کرنے کی جانب پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم مفیومی (Mifumi) دلھن کی قمیت کے معاملے کو عدالت میں لے کر آئی تھی۔
اس تنظیم کے مطابق اگرچہ ان کے مہم کی توقعات کے مطابق سب کچھ نہیں مل سکا ہے لیکن پھر بھی وہ عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
تنظیم کی ترجمان ایولین شیلر نے عدالت کے باہر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک یادگار لمحہ ہے اور اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد میں مدد ملے گی۔
کمپلا میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق روایتی طور پر دلھن کی قیمت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور باوقار شادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
مفیومی کے مطابق دلھن کی قمیت کی وجہ سے گھریلو تشدد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جس میں مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس نے سیکس اور بچے پیدا کرنے کے لیے اپنی بیوی کے لیے قیمت ادا کی ہے۔



















