’70 انچ کمر والا ماڈل درکار ہے‘

ماڈل سالانہ 60ہزار پاؤنڈز سے زیادہ کما سکتا ہے اور اسے کمپنی کے ایلیسمیر پورٹ میں واقع ہیڈکوارٹرکے مفت سفر کی سہولت بھی دی جائے گی
،تصویر کا کیپشنماڈل سالانہ 60ہزار پاؤنڈز سے زیادہ کما سکتا ہے اور اسے کمپنی کے ایلیسمیر پورٹ میں واقع ہیڈکوارٹرکے مفت سفر کی سہولت بھی دی جائے گی
وقت اشاعت

لندن میں ملبوسات کی ایک کمپنی کو کم ازکم 70 انچ کمر والے ماڈل کی تلاش ہے۔

بڑی جسامت والے افراد کے ملبوسات بنانے والی کمپنی ’بگ ڈُوڈ کلودنگ‘ اپنے صارفین کوایکسٹرا لارج سائز سے بھی بڑے کپڑے مہیا کرتی ہے۔ لیکن اب اس کو تلاش ہے 10 ایکس ایل جسامت والے ایک شخص کی جو اس کے لیے ماڈلنگ بھی کرے اور مشورے بھی دے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ اس ’قوی الجثہ‘ شخص کی چھاتی 76 انچ (193 سینٹی میٹر) چوڑی ہو اور وہ ’کیمرے کے سامنے پُراعتماد اور ہشاش بشاش نظر آئے۔‘

ماڈل سالانہ 60 ہزار پاؤنڈز سے زیادہ کما سکتا ہے اور اسے کمپنی کے ایلیسمیر پورٹ میں واقع ہیڈکوارٹر کے مفت سفر کی سہولت بھی دی جائے گی۔

ڈیرل فری مین نے بڑے سائز کے ملبوسات بنانے کا کاروبار تین سال قبل شروع کیا تھا۔

انھوں نے نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’ہم صرف ایساماڈل چاہتے ہیں جو پُرانی شکل کے بجائے ہماری مصنوعات اور برانڈ کی عکاسی کرے۔ ہمیں ایک پُرسکون، پُراعتماد اور ایک عمدہ شخصیت کے حامل شخص کی ضرورت ہے۔‘

ڈیرل کا کہنا ہے کہ وہ ’دا فیٹ جیو‘ کے نام سے مشہور امریکی سوشل میڈیا کے معروف ستارے جوش سٹروسکی جیسا برطانوی ڈھونڈ رہے ہیں۔

جوش کو دبلا نہیں کہا جا سکتا لیکن وہ یقیناً 10X سائز بھی نہیں ہیں اور ان کی انسٹاگرام ویب سائٹ پر ان کے ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ پرستار ہیں۔ انھوں نے بہت سے فیشن برانڈز کی تشہیری مہم چلانے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

ڈیرل کا خیال ہے کہ لندن کو ماڈلنگ کے لیے صرف ’عام کسرتی جسم والے مردوں‘ پر انحصار کرنے کے بجائے مزید لمبے چوڑے اور لحیم و شحیم مردوں کی ضرورت ہے۔

ان کی کمپنی فی الحال ایکسٹرا ایکسٹرا ایکسٹرا لارج ماڈلز سے کام لے رہی ہے۔ ’ہم نیا ٹیلنٹ ڈھونڈنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہمیں مزید تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ مردوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے مختلف محسوس نہ کریں۔ موجودہ حالات میں پلس سائز خواتین ماڈلز کے لیے تو بہتر اور بڑے مواقع ہیں، لیکن مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں وہ بھی پلس سائز ماڈل ہو سکتے ہیں۔‘

ڈیرل کہتے ہیں کہ بڑے سائز کے ملبوسات برطانیہ کی مارکیٹ میں موجود خلا کو پُر کر دیں گے۔

’لوگوں کو اب معلوم ہے کہ یہاں اب ایسے مصنوعات فروش بھی موجود ہیں جو بڑے سائز کے مرد حضرات کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے لوگوں میں موٹاپا روزبروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اب زیادہ تر لوگ غیرمعمولی بڑے سائز کے کپڑوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘

لندن کے ایک اوسط مرد کی کمر 35 انچ ہوتی ہوتی ہے۔ لیکن ڈیرل کہتے ہیں کہ ان کے پاس 14X سائز کے ملبوسات کے آرڈر ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے اس طرح کے ملبوسات بنانے کا رواج شروع کیا ہے۔ مختلف مردوں کی مختلف ضروریات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمیں ایک آدمی کی طرف سے ایک آرڈر ملا جسے 15 انچ موٹی پنڈلیوں والی جینز درکار تھی۔‘

ڈیرل کا خیال ہے کہ ہمارا چوڑی کمر والا آئیڈیا اس تاثرکو ختم کر دے گا کہ ماڈل کو دبلا پتلا ہونا چاہیے۔

’پلس سائز‘ نام ابھی برقرار رہے گا، اس کے ساتھ کسی قسم کی شرمندگی وابستہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ کسی قسم کا منفی تاثر منسلک نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ یہ 20 سال پرانا دور نہیں ہے جب اس طرح کے ماڈل بہت منفرد ہوا کرتے تھے۔‘