یوکرین میں پارلیمان کے باہر پرتشدد مظاہرے، ایک اہلکار ہلاک

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے رپورٹر نے بتایا کہ ایک شدید دھماکے کی آواز سنی گئی
،تصویر کا کیپشنخبر رساں ادارے اے ایف پی کے رپورٹر نے بتایا کہ ایک شدید دھماکے کی آواز سنی گئی
وقت اشاعت

یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے باہر ایک پرتشدد مظاہرے میں خصوصی دستے نیشنل گارڈز کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک سو زخمی ہو گئے ہیں۔

مظاہرین نے نیشنل گارڈز پر کریکر اور پیٹرول بم پھینکے ، اور دھماکوں کی بھی آوازیں سنی گئیں۔

رکن پارلیمان نے روس نواز باغیوں کے زیر قبضہ دونیتسک اور لوہانسک کے علاقوں کو مزید اختیارات دینے کے حق میں ایک انتہائی شور شرابے والے اجلاس میں ووٹ ڈالے۔

باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر زیادہ خودمختاری کے ذریعے زور ڈالنا مِنسک معاہدہ کا اہم حصہ ہے جس پر فروری میں دستخط کیے گئے تھے۔

موسم گرما میں یوکرین کی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ تاہم گذشتہ ہفتے فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ یکم ستمبر کو لڑائی کو روکا جائے گا کیونکہ اس دن علاقے کے تمام بچے سکولوں کو جانا شروع کریں گے۔

انٹر فیکس یوکرین کے مطابق ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ ان کے گھٹنے کے پاس سے الگ ہوگئی ہے
،تصویر کا کیپشنانٹر فیکس یوکرین کے مطابق ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ ان کے گھٹنے کے پاس سے الگ ہوگئی ہے

ویسے تو حالیہ دنوں میں جنگی بندی کی خلاف ورزیوں میں کمی ہوئی ہے، لیکن یوکرین میں انٹرنیشنل مانیٹرنگ مشن ’او ایس سی ای‘ کے سینیئر اہلکار الیگزینڈر ہیگ نے متنبہ کیا ہے کہ دونوں جانب سے عارضی جنگ بندی کا احترام نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے سوئس میڈیا کو بتایا کہ ’خلاف ورزی زور کا ایک معمول بن گئی ہے۔‘

جیسے ہی 265 ارکانِ پارلیمان نے ان اصلاحات کی حمایت میں ووٹ ڈالا تو پارلیمنٹ کے باہر مظاہروں میں شدت آگئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں، جن کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا جو ممکنہ طور پر کسی گرینیڈ کا ہو سکتا ہے۔

ان مظاہرین میں زیادہ تر نے ’الٹرا نیشنلسٹ سوبوڈا پارٹی کی حمایت میں بینر اٹھا رکھے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے رپورٹر نے بتایا کہ ایک شدید دھماکے کی آواز سنی گئی اور بہت سے لوگ خون میں لت پت دیکھے گئے۔

انٹر فیکس یوکرین کے مطابق ایک پولیس اہلکار کی ٹانگ ان کے گھٹنے کے پاس سے الگ ہوگئی ہے۔

 سنہ 2014 سے مشرقی یوکرین میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشن سنہ 2014 سے مشرقی یوکرین میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

وہاں پر موجود ایک صحافی بھی زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔

یوکرین کے وزیر داخلہ آرسین آواکوو کا کہنا ہے کہ تقریباً 30 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ مزید افراد کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے اپنے فیس بک صفحے پر سوبوڈا پارٹی کے سربراہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی پارٹی کی شرٹیں پہنے ہوئے لوگوں کی جانب سے کئی دھماکہ خیز اشیا پھینکی گئی ہیں۔

سنہ 2014 سے مشرقی یوکرین میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔