بینکاک بم حملے کا دوسرا ملزم گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس نے بینکاک میں اگست کے مہینے میں ایک مندر پر ہونے والے بم حملے میں ملوث دوسرے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس شخص کو سا کیو نامی صوبے سے گرفتار کیا گیا جو کمبوڈیا کی سرحد سے ملحق ہے۔
انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے شخص کا اس کیس میں مرکزی کردار ہے اور وہ غیر ملکی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بینکاک میں ایک مندر پر ہونے والے بم حملے میں ایک اور غیر ملکی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس نے بینکاک کے مضافات میں نانگ جوک نامی علاقے میں موجود ایک فلیٹ سے بم بنانے کا سامان اور دس پاسپورٹ برآمد کیے۔
تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے گذشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے شخص کا اس کیس میں مرکزی کردار نہ ہو۔ اس شخص کو سکیورٹی کیمرے میں جائے وقوعہ سے بم دھماکے کے بعد گزرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
ابھی تک جس ملزم کا نام ظاہر کیا گیا ہے وہ ایک 26 سالہ تھائی مسلمان خاتون ہے، جس کا نام وانا سوانسین ہے ۔
تاہم ایک خاتون، جنھوں نے خود کو سوانسین ظاہر کیا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ تین ماہ سے ترکی میں رہائش پذیر ہیں اور وہ تب سے تھائی لینڈ نہیں گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ مندر سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس دھماکے کا ہدف غیر ملکی سیاح ہوں۔
نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق بینکاک کے مرکز میں فائیو سٹار ہوٹل کے قریب واقع یہ مندر بہت مشہور ہے۔ یہ مندر ہندوؤں کے دیوتا برہما کا ہے لیکن ہر روز یہاں ہزاروں کی تعداد میں بدھ مت کے ماننے والے بھی آتے ہیں۔



















