جوہانسبرگ افریقی امرا کا شہر

1) افریقہ کے 30 فی صد لکھ پتی جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اے ایف آر ایشیا بینک اور نیوورلڈ ویلتھ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں 23 ہزار 400 لکھ پتی رہائش پذیر ہیں۔ زیادہ تر لکھ پتیوں کی رہائش کی وجہ سے یہ افریقہ کے لکھ پتی افراد کا شہر بن گیا ہے۔ جبکہ کیپ ٹاؤن، ڈربن اور پریٹوریا کا شمار بھی ٹاپ ٹین میں ہوتا ہے۔ ______________________________________

2) اس سیزن کے پریمیئر لیگ میں ہر پانچ میں سے ایک گول افریقی کھلاڑیوں کی جانب سے کیا گیا۔ افریقی کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرسٹل پیلیس کلب کے کھلاڑی کانگو، سینیگال، مراکش، گھانا اور مالی، مانچسٹریونائیٹڈ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ آرسنل کا پورے برآعظم سے ایک بھی کھلاڑی نہیں ہے۔ ________________________________________

3) جنوبی افریقہ کا نوے کی دہائی کا معروف ستارہ پینی پینی ایک مقامی کونسلر بن گیا ہے۔ امریکی ریاست لاس اینجلس کا ایک ڈی جے جو گذشتہ چھ سالوں سے پینی پینی کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہے۔ جب انھوں نے بالآخر یہ کرلیا تو وہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ وہ پہلے ہی موسیقی سے سیاست کی طرف قدم بڑھا چکے تھے۔ ________________________________________

4) نائیجیریا کے صدر محمدوبوہاری کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں 150000 امریکی ڈالرموجود ہیں۔ صدرنے شفافیت کے فروغ کے لیے چلائی جانے والی ایک تحریک میں اپنے اثاثوں کے متعلق انکشاف کیا۔ جب وہ اپنا عہدہ چھوڑیں گے تب وہ دوبارہ بھی اپنے اثاثے ظاہرکریں گے۔ ________________________________________

5) ایک جنوبی افریقی صوبے کی انتظامیہ اس بات سے لاعلم ہے کہ حکومت سے تنخواہ لینے والے افراد کی فہرست میں موجود 36000 لوگ کوئی وجود رکھتے ہیں یا نہیں۔ جنوبی افریقہ کے شمال مغربی صوبے کی ایک ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی کے نیوز ڈے پروگرام کو بتایا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے پے رول پر موجود نصف سے زیادہ لوگ جنھیں وہ تنخواہوں کی ادائیگی کررہے ہیں وہ حقیقی ملازمین ہیں یا نہیں۔ اب ہرملازم کو اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ حاظر ہونا ہوگا تاکہ مسئلے کی تہہ تک پہنچا جاسکے۔















