’ووکس ویگن نے یورپ میں بھی ہیرا پھیری کی ہے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
جرمنی کے وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ووکس ویگن نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یورپ میں بھی گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے لیے اسی سافٹ ویئر کا استعمال کیا ہے جسے امریکہ میں استعمال کیا گیا تھا۔
الیگزینڈر ڈوبرنٹ کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ یورپ میں موجود ایک کروڑ 11 لاکھ گاڑیوں میں سے کتنی گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر کمپنیوں کی گاڑیوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
یہ واقعہ جمعے کو اُس وقت سامنے آیا تھا جب جرمنی میں گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی ووکس ویگن نے تسلیم کیا تھا کہ اس نے ایک سافٹ ویئر کی مدد سے گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے طریقہ کار میں بددیانتی کی تھی۔
ڈوبرنٹ کا کہنا ہے کہ اس سے 1.6 اور 2.0 لیٹر ڈیزل انجن کی حامل گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ میں 2009 سے لے کر 2015 تک کے ووکس ویگن کی جیٹا، گولف اور آؤڈی اے تھری ماڈل اور 2014-15 کے پاسٹ ماڈل میں یہ سافٹ ویئر استعمال کیا گیا تھا جو تجزیے کے نتائج میں گڑبڑ کرتا تھا۔
ڈوبرنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووکس ویگن کے مقابلے میں دیگر کمپنیوں کی تیار کردہ گاڑیوں کی آزمائش کی جا سکتی ہے۔
جب سے یہ سکینڈل منظر عام پر آیا ہے ووکس ویگن کی قیمتیں 30 فیصد تک کم ہو گئی ہیں۔
دیگر کمپنیوں کی جانب سے مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے میں بددیانتی کی خبر کے بعد بی ایم ڈبلیو کے حصص بھی دس فیصد تک گر گئے ہیں۔
بی ایم ڈبلیو نے ایک تردیدی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے ’کوئی جوڑ توڑ نہیں کیا اور نہ ہی مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے میں بددیانتی کی ہے۔
’ہم نے ہر ملک کی قانونی شرائط کو پورا کیا ہے اور مقامی جانچ کی تمام شرائط پر عمل کیا ہے۔‘



















