جنت بنانے کیلیے نہیں جہنم سے بچانے کیلیے

    • مصنف, نکِ برائینٹ
    • عہدہ, بی بی سی، نیویارک
  • وقت اشاعت

’اقوام متحدہ بنی نوع انسان کو جنت لے جانے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ انھیں جہنم سے بچانے کے لیے بنائی گئی تھی۔‘

اقوام متحدہ کے محبوب ترین سیکریٹری جنرل اور سوئیڈن کے سفارتکار ڈاگ ہیمرشیلڈ کے ان الفاظ کو اس ادارے کے مقاصد اور اقدار کا بہترین ترجمان سمجھا جاتا ہے۔

ہیمرشیلڈ کے یہ الفاظ اقوام متحدہ کی کارکردگی جانچنے کے پیمانے کا کام بھی کرتے ہیں۔

جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں اور جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بموں کے حملے کے بعد سنہ 1945 میں اس تنظیم نےجنم لیا تھا۔ اس تنظیم کا مقصد اُس وقت ’جہنم‘ کی جانب جاتے ہوئے بین الاقوامی حالات اورایٹمی جنگ جیسے خطرات سے بچاؤ تھا جو آج بھی سروں پر منڈلا رہے ہیں۔

خوفناک ناکامیاں

روانڈا میں ہونے والی نسل کسشی کے دوران وہاں پر اقوام متحدہ کی جانب سے تعینات امن قائم کرنے اور بحال رکھنے والوں کی ساری توجہ تارکین وطن اور سرکاری حکام کی وہاں سے روانگی پر مبذول تھی
،تصویر کا کیپشنروانڈا میں ہونے والی نسل کسشی کے دوران وہاں پر اقوام متحدہ کی جانب سے تعینات امن قائم کرنے اور بحال رکھنے والوں کی ساری توجہ تارکین وطن اور سرکاری حکام کی وہاں سے روانگی پر مبذول تھی

جنگ عظیم دوم کے بعد جب ہولوکاسٹ کے بے رحمانہ مظالم کے بارے میں دنیا کو پتہ چلنا شروع ہوا تو اس وقت لفظ ’جہنم‘ کے معنی نسل کشی بھی تھے۔ ’نسل کشی‘ جیسے لفظ کو تراشنے کی اس سے پہلے کبھی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ نسل کشی کا مطلب ہے کہ نسلی، مذہبی، یا پھر قومیت کی بنیاد پر مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا منظم قتل عام کیا جائے۔

ایسے ہولناک مظالم کی روک تھام میں اقوام متحدہ کا کردار ہمیشہ موثر نہیں رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے لیے یہ شرمناک ترین بات ہے۔ کچھ مواقعے پر تو یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس بارے میں معلومات ہونے کے باوجود بھی اس کی جانب سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

تاریخ میں روانڈا اور سر برینیتزا کا ذکر اقوام متحدہ کی خوفناک ناکامیوں کے طور پر ہوگا۔

روانڈا میں ہونے والی نسل کسشی کے دوران وہاں پر اقوام متحدہ کی جانب سے تعینات امن قائم کرنے اور بحال رکھنے والوں کی ساری توجہ تارکین وطن اور سرکاری حکام کی وہاں سے روانگی پر مبذول تھی۔ اور وہ وہاں کے ٹُوسی اور ان کے ہمدرد ہُوٹُو قبیلے کے آٹھ لاکھ افراد کو ذبح ہونے نہیں بچا سکے تھے۔

جولائی 1995 میں سر برینیتزا میں بوسنیا کی سرب فوج کے ہاتھوں آٹھ ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا جن میں زیادہ تعداد مرد اور نوعمر لڑکوں کی تھی۔ یہ سرب فوجی ہالینڈ کے ’اقوام متحدہ‘ کے جلی حروف وا لی مخصوص نیلی ہیلمٹ پہنے فوجیوں کے پاس سے یوں گزر کے جاتے تھے گویا وہ وہاں موجود ہی نہ ہوں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں گذشتہ پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان امن مذاکرات کرانے کی کوشش پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے
،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کی جانب سے شام میں گذشتہ پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان امن مذاکرات کرانے کی کوشش پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے

اور اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ مسلمان اقوام متحدہ کے زیر سایہ ’محفوظ علاقوں‘ میں پناہ گزین تھے۔

یوگوسلاویہ جیسے کچھ بحرانوں میں اقوام متحدہ کا ردعمل آہستہ روی کا شکار ہو گیا تھا۔ جبکہ ویتنام اور عراق جیسے واقعات میں اس کو شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں گذشتہ پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان امن مذاکرات کرانے کی کوشش پہلے ہی ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔

سنہ 1945 میں قیام کے بعد اقوام متحدہ کے سامنے پہلا سب سے بڑا تنازعہ فلسطین اور اسرائیل کا تھا جہاں قیام امن کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔

ایسے مواقع بھی آئے ہیں جب اقوام متحدہ مسئلے کا حل ہونے کے بجائے اس کا حصہ بن گئی تھی۔

اقوام متحدہ کی نیلی ہیلمٹ والی امن فوج کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے لگاتار الزامات کا بھی سامنا ہے، اور اس کے تازہ ترین الزامات جمہوریہ وسطی افریقہ میں سامنے آئے ہیں۔

ہیٹی میں ہیضے کی وبا پھیلنے سے آٹھ ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے اور شواہد کے مطابق نیپال سے تعلق رکھنے والے اقوام متحدہ کی امن فوج کے اہلکار اس وبا کے ذمہ دار تھے۔ تاہم اقوام متحدہ نے اس کی قانونی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جمہوریت کا فقدان

ایک طرف اقوام متحدہ خود کو دنیا میں جمہوریت کا محافظ سمجھتی ہے تو دوسری جانب تنظیمی طور پر اس ادارے کے اندرونی نظام کا جمہوریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

اس ادارے کی طاقت کے دھارے سکیورٹی کونسل سے نکلتے ہیں اور اس طاقت کو پانچ مستقل رکن ممالک ’ویٹو‘ کے ذریعے اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کسی بھی قرارداد، قانون، یا فیصلے کو مسترد کرنے کا اختیار رکھنے والی یہ طاقت امریکا، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کو حاصل ہے۔

جنگِ عظیم دوم کے فاتح مملک پر مشتمل سکیورٹی کونسل بالکل اس ہی طرح ہے جیسے آپ کسی نایاب لمحے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیں۔

یعنی جب امریکی صدر فریکلن ڈیلانو روزویلٹ نے ’اقوام متحدہ‘ کی اصطلاح تراشی تھی تو ان کا مطلب دنیا بھر کے ممالک نہیں تھے بلکہ اتحادی مملک تھے۔

جرمنی اور جاپان کے پاس سکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت نہیں ہے اور نہ ہی بھارت اور برازیل کے پاس ہے۔

اقوام متحدہ کی قدرے کم طاقت کی حامل جنرل اسمبلی میں ہر رکن ملک کے پاس حق رائے دہی استعمال کرنے کا اختیار ہے لیکن سکیورٹی کونسل کے آگے دنیا کی 75 فیصد آبادی کی طاقت اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ کیونکہ اگر سکیورٹی کونسل کا ایک ملک بھی اپنی ویٹو طاقت کا استعمال کرتا ہے تو دیگر 192 رکن ممالک کی رضامندی ضائع ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کچھ معاملات میں سکیورٹی کونسل کے پانچوں مستقل رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے، مثال کے طور پر سیکریٹری جنرل کی تقرری کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے۔ اور اگر نیک نیتی سے فیصلہ کیا جائے تو نسبتاً کمزور ملک سے تعلق رکھنے والی شخصیت کا اس اعلیٰ ترین عہدے کے لیے انتخاب ہوسکتا ہے جیسے کہ حالیہ سکریٹری جنرل بان کی مون ہیں۔

مثبت پہلو

سنہ 1945 سے اب تک تنازعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے
،تصویر کا کیپشنسنہ 1945 سے اب تک تنازعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے

تمام تر خامیوں کے باوجود بھی اقوام متحدہ اپنے 70 سالہ ماضی پر فخریہ نظر ڈال سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کو 170 سے زائد امن معاہدے کروانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اگرچہ کہ زیادہ تر کامیابیاں فریقین ممالک کے درمیان تنازعات طے کروانے میں حاصل ہوئی ہیں بہ نسبت کسی ملک میں خانہ جنگی رکوانے کے۔

سرد جنگ، جنگی گرما گرمی میں تو نہ بدلی تاہم سرد جنگ نما متبادل بحرانی صورت حال کوریا، ویتنام، نکاراگوا، انگولا، افغانستان، اور دیگر جگہوں پر ضرور دیکھنے میں آتی رہی ہے۔

سنہ 1945 سے اب تک تنازعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی مدد سے کئی بڑے اہم بین الاقوامی معاہدے طے پائے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہ 1970 میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا اطلاق کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے تحت تاریخی انتخابات کا بھی انعقاد ہوا ہے جن میں سنہ 2004 میں افغانستان کے پہلے تاریخی صدارتی انتخابات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والے مختلف نوعیت کے اداروں کی کارکردگی بہت متاثر کن رہی ہے اگر چہ کہ ان اداروں کے بارے میں لوگوں میں آگاہی نہیں ہے۔ خاص طور پرامدادی کارروائی کرنے والے ادارے، اور صحت اور اقتصادی ترقی سے منسلک اداروں میں دنیا کے مایہ ناز ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ نہ صرف ان اداروں کا عملہ اپنی شعبے میں ماہر ہوتا ہے بلکہ بہادر اور اپنے کام سے مخلص بھی ہوتا ہے۔

متنازع ویٹو

شام کے صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے روس اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتا ہے جس میں اکثر اسے چین کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے
،تصویر کا کیپشنشام کے صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے روس اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتا ہے جس میں اکثر اسے چین کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے

اس سب کے باوجود بھی اکثر اقوام متحدہ کے رکن ممالک اس کے کام میں مداخلت کرتے نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر اقوام متحدہ کے ادارے شام میں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنا چاہتے ہیں لیکن پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سکیورٹی کونسل کی جانب سے انھیں یہ اختیار نہیں دیا جا رہا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد کو بچانے کے لیے روس اپنا ویٹو کا حق استعمال کرتا ہے جس میں اکثر اسے چین کی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے ناقدین امریکا کی جانب سے اسے بین الاقوامی طور پر تنقید کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے ویٹو کے استعمال پر ماتم کنا ہیں۔ ادھر اسرائیل کو اقوام متحدہ سے شکایت ہے کہ اس کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ رکھا جاتا ہے اور بدنام کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ اکثر دنیا کو درپیش مسائل حل کرنے کے بجائے محض ان کی کسی حد تک عکاسی تک محدود رہتا ہے۔

کثیرالقومی مسائل کا حل ڈھونڈنے والے کی حیثیت سے اقوام متحدہ ناکام ہوتی ہے یا کامیاب، اس کا تمام تر دارومدار اس کے مستقل رکن ممالک پر ہے۔ اور اس معاملے میں شام کا تنازعہ اقوام متحدہ کی کارکردگی کی پیمائش کے لیے بطور پیمانہ استعمال ہوسکتا ہے۔

سکیورٹی کونسل کی جانب سے کھڑی رکاوٹوں کے باعث وہاں امن کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اردن میں پناہ گزینوں کے لیے قائم زاتاری کیمپ اقوام متحدہ کے تحت چل رہا ہے جہاں 80 ہزار تارکین وطن پناہ گزین ہیں۔

اس کیمپ کی منظر کشی کے لیے کسی طور بھی ’جنت‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن اس کیمپ نے ’جہنم‘ سے بچاؤ کے لیے پناہ ضرور فراہم کی ہے۔