ووکس ویگن کے سابق سربراہ کے خلاف تحقیقات شروع

امریکہ میں ماہرین نے ووکس ویگن کے کچھ ڈیزل اینجنوں میں ’چِیٹ‘ سافٹ وئیر دریافت کیا
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں ماہرین نے ووکس ویگن کے کچھ ڈیزل اینجنوں میں ’چِیٹ‘ سافٹ وئیر دریافت کیا
وقت اشاعت

جرمنی میں حکام نے کار ساز ادارے ووکس ویگن کے سابق چیف ایگزیکیٹو مارٹن ونٹرکورن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق ان تحقیقات میں ایسی گاڑیوں کی فروخت کے سلسلے میں دھوکہ دہی کے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا جن میں مضر صحت گیس کے اخراج کی معلومات کے بارے میں بد دیانتی کی گئی تھی۔

مارٹن ونٹرکورن نے تقریباً نو برس تک ووکس ویگن کی سربراہی کے بعدگزشتہ ہفتے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ وہ گاڑیوں کی آلودگی کی پیمائش میں بددیانتی کے بارے میں لاعِلم تھے۔

امریکہ میں ماہرین نے ووکس ویگن کے کچھ ڈیزل انجنوں میں ’چِیٹ‘ سافٹ ویئر دریافت کیا تھا۔

ووکس ویگن کے امریکی کاروبار کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی کمپنی نے گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے طریقۂ کار یا ’ایمیشنز ٹیسٹ‘ میں ایک سافٹ ویئر کی مدد سے بددیانتی کی ہے۔

جرمنی کے عدالتی نظام کے تحت کوئی بھی استغاثہ کے پاس فوجداری شکایت درج کر سکتا ہے جس کے بعد استغاثہ پر شکایت کا جائزہ لینا لازم ہو جاتا ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا باقاعدہ تحقیقات کے آغاز کے لیے کافی شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

استغاثہ کی ترجمان جولیا میئیر کے مطابق امریکہ میں ہونے والے انکشافات کہ بعد وولفسبرگ میں قائم ووکس ویگن کے ہیڈکوارٹر کے قریب برانشویک میں استغاثہ کو تقریباً ایک درجن شکایات موصول ہوئیں جن میں ایک شکایت ووکس ویگن کی جانب سے بھی ہے۔

آؤڈی کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اس کی 21 لاکھ گاڑیوں میں دھوکہ دینے والا سافٹ ویئر موجود ہے
،تصویر کا کیپشنآؤڈی کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اس کی 21 لاکھ گاڑیوں میں دھوکہ دینے والا سافٹ ویئر موجود ہے

اختتامِ ہفتہ پر جرمن میڈیا کے مطابق ووکس ویگن کے چند اپنے ملازمین اور ایک عدد سپلائر نے کئی سال پہلے ’ڈیفیٹ ڈیوائس‘ نامی اس سافٹ وئیر اور آلے کے غیر قانونی استعمال کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔

جمعے کے روز ووکس ویگن کے ’پورش ڈویژن‘ کے سربراہ میتھائیس میولر کو ونٹرکورن کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔

ووکس ویگن نے ’ایمیشنز ٹیسٹ‘ میں بد دیانتی کرنے پر معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ کمپنی کی تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیوں میں یہ سافٹ وئیر یا کمپیوٹر کوڈ موجود ہو سکتا ہے۔

سوموار کو ووکس ویگن کی ملکیتی کار کمپنی آؤڈی نے اعلان کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اس کی 21 لاکھ گاڑیوں میں یہ سافٹ ویئر موجود ہے۔

مغربی یورپ میں آؤڈی کی ’ای یو فائیو‘ انجن والی تقریباً چودہ لاکھ گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں جن میں سے پانچ لاکھ 77 ہزار گاڑیاں جرمنی میں اور تقریباً 13 ہزار امریکہ میں موجود ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق متاثرہ ماڈلوں میں اے ون، اے ٹو، اے فور، اے فائیو، اے سِکس، ٹی ٹی اور کیو فائیو شامل ہیں۔